جمعہ, فروری 13, 2026
ہوممضامیناسرائیلی جاسوس شانی کوپر: سفارتکاری کے پردے میں خفیہ آپریشنز

اسرائیلی جاسوس شانی کوپر: سفارتکاری کے پردے میں خفیہ آپریشنز
ا

تحریر: ابراہیم زکی

صیہونی حکومت کے "سفارتکار” محض سفارتی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ ان کے فرائض میں انٹیلیجنس آپریشنز بھی شامل ہوتے ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت شانی کوپر ہیں، جو ایک تجربہ کار سفارتکار کے طور پر جانی جاتی ہیں، لیکن درحقیقت وہ سفارتکاری کے پردے میں اسرائیلی جاسوسی نیٹ ورک کا حصہ رہی ہیں۔

کوپر نے مختلف ممالک میں سفارتی ذمہ داریاں نبھائیں، مگر درحقیقت وہ ان ممالک میں اسرائیلی مفادات کے لیے جاسوسی کرتی رہیں۔ وہ 15 اگست 2018 سے گھانا، لائبیریا اور سیرالیون میں اسرائیلی سفیر کے طور پر تعینات رہیں، جبکہ ترکی میں ناظم الامور اور مصر میں اسرائیلی سفارتخانے کی ترجمان کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں۔

شانی کوپر کو ایک صیہونی گروہ "موسیٰ سولجرز” سے بھی منسلک کیا جاتا ہے، جو عالمی سطح پر مخالفین کو خوفزدہ کرنے، اغوا کرنے اور قتل کرنے کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ یہ گروہ صیہونی حکومت کے ناقدین کو خاموش کرانے اور اسرائیل مخالف مظاہروں کو دبانے میں بھی سرگرم رہا ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کوپر نے اپنی سفارتی سرگرمیوں کے دوران افریقی ممالک میں اسرائیل مخالف عناصر کی نشاندہی کی اور انہیں قابو میں رکھنے کے لیے "موسیٰ سولجرز” کے ساتھ قریبی روابط قائم کیے۔ خاص طور پر گھانا، ترکی اور مصر میں ان کے مشکوک کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

افریقی ممالک میں اسرائیلی اثر و رسوخ

رپورٹس کے مطابق، اسرائیل نے ترکی اور گھانا کے سفارتخانوں کے ذریعے جدید جاسوسی آلات، جیسے "پیگاسس” اسپائی ویئر، افریقی حکومتوں کو فراہم کیے، تاکہ وہ صحافیوں، سیاسی مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنا سکیں۔

اس کے علاوہ، اسرائیل نے اقوام متحدہ اور افریقی یونین میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے براعظم افریقہ میں کئی حکومتوں کو فوجی ساز و سامان فراہم کیا۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی "موساد” نے کچھ افریقی ممالک کو دہشت گردی کے مراکز کے طور پر استعمال کیا، جبکہ روانڈا اور بوٹسوانا میں اسرائیلی فوجی اڈے قائم کیے گئے۔

انتخابات میں مداخلت

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں نے مختلف افریقی ممالک میں انتخابی عمل میں بھی مداخلت کی۔ 2020 میں، گھانا کے ایک اخبار نے اسرائیلی خفیہ عناصر کے گھانا کے عام انتخابات پر اثرانداز ہونے کے شواہد پیش کیے۔ اسی طرح، ملاوی، زمبابوے اور زیمبیا میں بھی اسرائیلی کمپنیوں کے ذریعے انتخابی عمل میں رد و بدل کی اطلاعات سامنے آئیں۔

شانی کوپر کا خفیہ کردار

شانی کوپر نے 2018 میں گھانا کی اسپیشل فورسز کے 25 کمانڈرز کو دہشت گردی کے خلاف نام نہاد تربیت فراہم کی، جو درحقیقت اسرائیلی خفیہ مقاصد کو آگے بڑھانے کی ایک چال تھی۔

کوپر کے سفارتی دور میں اسرائیل نے گھانا کو "زرعی ترقی” اور "ڈیجیٹلائزیشن” جیسے منصوبوں کے ذریعے اپنی گرفت میں رکھنے کی کوشش کی، لیکن حقیقت میں یہ سب اسرائیلی انٹیلیجنس آپریشنز کا حصہ تھا۔

اسرائیل کی افریقی حکمت عملی اور کوپر کا مستقبل

شانی کوپر کی سفارتی سرگرمیوں اور ان کے خفیہ مشنز نے اسرائیل کی افریقی حکمت عملی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جنوبی افریقی رہنما نیلسن منڈیلا کے پوتے زویلی ویلیل منڈیلا کے مطابق:

"اسرائیل اپنی فوجی اور نگرانی کی ٹیکنالوجی کو افریقی ممالک میں اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ وہ افریقی حکومتوں کو جاسوسی کے آلات اور اسلحہ دے کر ان کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔”

شانی کوپر 2021 میں گھانا سے واپس اسرائیل چلی گئیں، اور اس کے بعد سے ان کی سرگرمیاں عوام کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے خفیہ آپریشنز پر عالمی سطح پر تحقیقات ہونی چاہیے، کیونکہ یہ معاملہ عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین