افغانستان کی وزارت برائے کان کنی و پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ ملک کے معدنیاتی شعبے میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ازبکستان، چین، ترکی اور ایران کی کمپنیوں نے کی ہے۔
وزارت کے ترجمان حیات اللہ افغان کے مطابق، ان سرمایہ کاریوں کی مجموعی مالیت تقریباً آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ان کمپنیوں نے افغانستان میں تانبے، سونے، لوہے، سیمنٹ، تیل اور گیس کے کانوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اب کئی سہولیات دستیاب ہیں۔ ان کا کہنا تھا: "افغانستان کے معدنی شعبے میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ازبکستان، ترکی، چین اور ایران کی کمپنیوں نے کی ہے، جنہوں نے تیل و گیس، سیمنٹ منصوبوں اور تانبے، سونے اور لوہے کی کانوں میں سرمایہ لگایا ہے۔”
وزارتِ اقتصادیات کا ماننا ہے کہ ملک کے مختلف شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
وزارت کے ترجمان عبدالرحمٰن حبیب نے کہا: "ہمارا ملک اقتصادی لحاظ سے وسیع مواقع رکھتا ہے، خاص طور پر معدنیات، زراعت، توانائی کی پیداوار اور دیگر شعبوں میں۔ اس وقت غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے تمام ضروری مواقع اور سہولیات دستیاب ہیں۔”
معاشی تجزیہ کار احمد فردوس بہگوزین نے کہا: "غیر ملکی سرمایہ کار افغانستان میں مثبت اثر ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ ان کے پاس جدید ترین مشینری تک رسائی حاصل ہے۔ کان کنی ایک انتہائی حساس اور پیچیدہ شعبہ ہے۔”
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلامی امارت کے اقتدار میں واپس آنے اور ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کے بعد کچھ غیر ملکی کمپنیوں نے افغانستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

