چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکی حکومت کی جانب سے درجنوں چینی اداروں کو برآمدی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنا بالادستی پسندی کی واضح مثال ہے، اور چین اپنی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
ترجمان گوو جیاکون نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے خدشات کے نام پر اینٹیٹی لسٹ اور دیگر برآمدی کنٹرول کے آلات کا غلط استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے اس اقدام کو غیر قانونی یکطرفہ پابندی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، کاروباری اداروں کے جائز حقوق کو نقصان پہنچاتا ہے، اور عالمی صنعتی و سپلائی چین کے استحکام اور سلامتی کو متاثر کرتا ہے۔
انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا، "چین اس طرح کے اقدامات کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور ان کی شدید مذمت کرتا ہے۔”
گوو جیاکون نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ قومی سلامتی کے تصور کو غیر ضروری طور پر وسعت دینا، اقتصادی، تجارتی اور تکنیکی معاملات کو سیاسی رنگ دینا اور انہیں بطور ہتھیار استعمال کرنا بند کرے۔ انہوں نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ چینی کمپنیوں کو دبانے کے لیے پابندیوں کی فہرست کے خودسرانہ استعمال سے باز رہے۔
انہوں نے کہا کہ چین اپنی کمپنیوں کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اور ضروری اقدامات اٹھائے گا۔

