ایران نے اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ پر پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے لیے مغربی ممالک کی "غیر منصفانہ” کوشش کے خلاف سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا نتیجہ سخت ردعمل کی صورت میں نکلے گا۔
ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم (AEOI) کے ترجمان بہروز کمالوندی نے منگل کے روز یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب مغربی ممالک 2015 کے جوہری معاہدے، یعنی مشترکہ جامع منصوبۂ عمل (JCPOA) کے تحت پابندیاں بحال کرنے کے میکانزم کو متحرک کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
کمالوندی نے کہا، "ٹرگر میکانزم کے غیر منصفانہ استعمال پر ایران کی جانب سے مناسب اور شدید ردعمل دیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کے لیے "اسنیپ بیک” میکانزم کا استعمال ایران کے پُرامن جوہری پروگرام پر دباؤ ڈالنے کے مغربی حربے کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا، "یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ مغربی ممالک ایران کو ان خلاف ورزیوں پر سزا دینا چاہتے ہیں جو درحقیقت خود ان ہی نے کی ہیں۔”
یاد رہے کہ واشنگٹن نے 2018 میں JCPOA سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کرلی تھی، جبکہ یورپی ممالک، جو اس معاہدے کے فریق تھے، ایران کو امریکی پابندیوں سے بچانے میں ناکام رہے۔ اس کے نتیجے میں، ایران کو اقتصادی طور پر شدید نقصان پہنچا۔
کمالوندی نے کہا کہ ایران نے ایک سال تک معاہدے کے دیگر فریقین کے جواب کا انتظار کرنے کے بعد، مرحلہ وار اور واضح اقدامات کے ذریعے اپنی ذمہ داریوں میں کمی کی۔
انہوں نے وضاحت کی، "اگر وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے، پابندیاں ختم کی جاتیں اور امریکہ JCPOA سے دستبردار نہ ہوتا، تو ایران بھی اپنی تمام ذمہ داریوں کو پورا کرتا۔”
"اگر ایران نے اپنی ذمہ داریوں پر عملدرآمد روک دیا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے معاہدے کے بنیادی اصولوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔”
کمالوندی نے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کو "کھوکھلی اور بے بنیاد دھمکی” قرار دیا۔
انہوں نے کہا، "اسلامی جمہوریہ ایران ٹرگر میکانزم کو دباؤ ڈالنے کا ایک حربہ سمجھتا ہے، جیسے کہ دیگر اقتصادی اور عسکری دھمکیاں۔ ایران ان کے خلاف مضبوطی سے کھڑا رہے گا اور اپنے حقوق کا دفاع کرے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن وہ کسی بھی قسم کے دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
"ہمارے ملک کی مجموعی پالیسیاں رہبرِ انقلاب اسلامی کے ذریعے متعین کی گئی ہیں، اور ہم ان ہی پالیسیوں کے دائرے میں رہتے ہوئے قومی مفادات کا تحفظ یقینی بناتے ہیں۔”
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے جمعے کے روز مغربی ممالک کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ "یہ انہیں کسی منزل تک نہیں پہنچائیں گی” اور خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف کوئی بھی معاندانہ اقدام کیا گیا تو اس کا "جوابی ردعمل” دیا جائے گا۔

