جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیترکی میں احتجاج جاری، پابندی کے باوجود 1,400 سے زائد افراد گرفتار

ترکی میں احتجاج جاری، پابندی کے باوجود 1,400 سے زائد افراد گرفتار
ت

ترک حکام نے استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کی حراست کے بعد ملک بھر میں جاری مظاہروں کے دوران 1,400 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے، حالانکہ حکام نے احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

منگل کو استنبول میں مسلسل ساتویں رات بھی مظاہرین نے صدر رجب طیب اردوان کے اہم سیاسی حریف امام اوغلو کی جیل میں بندش کے خلاف احتجاج کیا۔

وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر ایک بیان میں کہا کہ ترک پولیس نے "غیر قانونی مظاہروں” میں شرکت کے الزام میں 1,418 افراد کو حراست میں لیا ہے اور خبردار کیا کہ "سڑکوں کو دہشت زدہ کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی”۔

اس دوران سات صحافیوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا جن پر "غیر قانونی ریلیوں اور مارچ میں شرکت” کا الزام ہے۔

صحافیوں کے حقوق کی تنظیم رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز (RSF) نے ان گرفتاریوں کو "شرمناک” قرار دیا۔ تنظیم کے ترکی میں نمائندے ای رول اونڈروغلو نے کہا کہ یہ "ترکی میں ایک انتہائی سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے”۔

منگل کی شب رمضان افطار کے موقع پر نوجوانوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے اردوان نے ان احتجاجی مظاہروں کو "سڑکوں پر پھیلائی گئی دہشت” قرار دیا اور ان "انتہائی حساس دنوں” میں صبر اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا، "جو لوگ سڑکوں پر دہشت پھیلا رہے ہیں اور ملک میں آگ لگانا چاہتے ہیں، ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا۔ ان کا یہ راستہ بند گلی میں ختم ہوگا۔”

تاہم، ان کے اس بیان کے دوران ہی استنبول کے ضلع شیشلی میں ہزاروں افراد حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے، جہاں فسادات روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

مظاہرین نے جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر "طیب استعفیٰ دو!” جیسے نعرے درج تھے، جبکہ اوپر کی منزلوں میں رہنے والے شہری برتن اور پتیلے بجا کر احتجاج کی حمایت کر رہے تھے۔

دوسری جانب، امام اوغلو کی جماعت جمہوریہ خلق پارٹی (CHP) کی جانب سے منگل کو استنبول کے ساراجانے ضلع میں مسلسل ساتویں رات احتجاج کیا گیا، جہاں 2019 میں امام اوغلو کو میئر منتخب کیا گیا تھا۔

CHP کے رہنما اوزگُر اوزل نے ہفتے کے روز استنبول میں ایک بڑے عوامی اجتماع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ "تاریخ کا سب سے بڑا عوامی ریفرنڈم” ہوگا اور قبل از وقت انتخابات کے لیے دباؤ بڑھائے گا۔

اوزل نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "ہم اب مزید برداشت نہیں کر سکتے، ہمیں جلد انتخابات چاہئیں۔”

یہ احتجاج، جو ترکی میں ایک دہائی کے دوران سب سے بڑے مظاہروں میں شمار ہو رہے ہیں، گزشتہ ہفتے اس وقت شروع ہوئے جب امام اوغلو کو کرپشن کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ اپوزیشن کے حامیوں نے اس اقدام کو قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

حکام نے سخت کارروائی کرتے ہوئے فسادی پولیس کے ذریعے پانی کی توپوں، مرچ اسپرے اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے ترکی میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور احتجاج پر "غیر قانونی پابندی” پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ طاقت کے کسی بھی غیر قانونی استعمال کی تحقیقات کریں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین