جنوبی کوریا کی فارسٹ سروس کے مطابق، ملک بھر میں کم از کم پانچ مقامات پر شدید جنگلاتی آگ بھڑک رہی ہے، جنہیں بجھانے کے لیے ہزاروں فائر فائٹرز اور فوجی اہلکار مصروفِ عمل ہیں۔
ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں تیزی سے پھیلتی ہوئی آگ کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ شدید آگ کے باعث فائر فائٹرز اور فوجی اہلکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں سے 27,000 سے زائد افراد کو ہنگامی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
ہلاکتوں میں اضافہ، قدیم بدھ مت مندر راکھ کا ڈھیر
بدھ کے روز، ہلاکتوں کی تعداد 24 تک پہنچ گئی جب ہوا کے زور پر آگ نے رہائشی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ایک قدیم مندر کو جلا کر راکھ کر دیا۔
ہلاک شدگان میں ایک ہیلی کاپٹر پائلٹ بھی شامل ہے، جو آگ بجھانے کے دوران اپنا طیارہ گرنے کے سبب جاں بحق ہوا۔ جنوبی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق، چار افراد جو منگل کی رات ایک سڑک پر مردہ پائے گئے، آگ سے بچنے کی کوشش میں اپنی گاڑی الٹنے کے بعد جھلس کر ہلاک ہو گئے۔
آگ کے پھیلاؤ اور بڑے پیمانے پر تباہی
جنگلاتی آگ کا آغاز جمعہ کی رات شمالی گیونگ سانگ صوبے کے سانچونگ کاؤنٹی سے ہوا، جو تیزی سے یوسونگ، آنڈونگ، چیونگ سونگ، یونگیانگ اور یونگ دوک تک پھیل گئی۔
آگ کی شدت کے باعث آنڈونگ سمیت دیگر کئی علاقوں میں ہنگامی انخلا کے احکامات جاری کیے گئے۔ حکام کے مطابق، اب تک 17,000 ہیکٹر (42,000 ایکڑ) سے زائد جنگلات اور سینکڑوں عمارتیں جل کر تباہ ہو چکی ہیں، جن میں 1,000 سال سے زیادہ قدیم گونسا بدھ مت مندر بھی شامل ہے۔
یونہاپ کے مطابق، مندر میں محفوظ قومی خزانے اور نایاب تاریخی نوادرات کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا، جس سے وہ تباہی سے بچ گئے۔
حکام نے آنڈونگ میں واقع ہاہوئے فوک ولیج کے لیے بھی ہنگامی الرٹ جاری کر دیا۔ یہ تاریخی گاؤں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے اور سیاحوں میں بے حد مقبول ہے۔
جنوبی کوریا کے ثقافتی ورثے کے ادارے کے ایک اہلکار کے مطابق:
"جنگلاتی آگ ہاہوئے گاؤں سے تقریباً 8 کلومیٹر (4.9 میل) کے فاصلے پر ہے۔ فائر ٹرک اور درجنوں فائر فائٹرز علاقے میں تعینات ہیں اور عمارتوں کے گرد پانی کا چھڑکاؤ جاری ہے تاکہ آگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔”
آگ بے قابو، ماہرین بھی حیران
قومی ادارہ برائے جنگلاتی سائنس کے ماہر لی بیونگ-ڈو کے مطابق، یوسونگ میں لگی آگ کی شدت "ناقابلِ تصور” ہے اور یہ ریکارڈ رفتار سے پھیل رہی ہے۔
جنوبی کوریا کے قائم مقام صدر ہان ڈک-سو نے کہا کہ یہ آگ تمام سائنسی ماڈلز اور پیش گوئیوں کو غلط ثابت کر رہی ہے۔
"یولسان اور گیونگ سانگ ریجن میں لگنے والی جنگلاتی آگ مسلسل پانچویں دن بھی جل رہی ہے اور اس سے بے مثال نقصان ہو رہا ہے۔ یہ آگ نہ صرف موجودہ ماڈلز بلکہ پہلے سے کی گئی پیش گوئیوں سے بھی زیادہ خطرناک انداز میں پھیل رہی ہے۔”
فوج اور قیدیوں کی منتقلی
یونہاپ کے مطابق، آگ پر قابو پانے کے لیے جنوبی کوریا کی فوج نے تقریباً 5,000 فوجی اہلکار تعینات کیے ہیں اور 146 ہیلی کاپٹرز بھی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
مزید برآں، آگ کے خطرے کے پیش نظر ایک جیل کے 500 قیدیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

