ایل ایس ای جی شپنگ ریسرچ کے مطابق، ان راستوں کی تبدیلی کے نتیجے میں یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری نقل و حمل کا وقت دوگنا ہو سکتا ہے، جبکہ ہر سفر کے اخراجات میں تقریباً 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔
یمنی مزاحمتی حملوں میں اضافے کے باعث امریکی بحری آپریشنز میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، اور اب زیادہ تر امریکی بحری جہاز بحیرہ احمر سے گزرنے کے بجائے افریقہ کے جنوبی ساحل کا رخ کر رہے ہیں۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کے مطابق، بحری جہازوں کو بڑھتے ہوئے خطرات سے بچانے کے لیے متبادل راستے اختیار کیے جا رہے ہیں۔
سی بی ایس کے پروگرام فیس دی نیشن میں گفتگو کرتے ہوئے والٹز نے کہا، "ہمارے 75 فیصد امریکی بحری جہاز اب بحیرہ احمر اور نہر سوئز کے بجائے افریقہ کے جنوبی ساحل سے گزرنے پر مجبور ہیں۔” انہوں نے خطرے کی شدت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا، "جب ہمارے ایک تباہ کن جنگی جہاز نے آخری بار ان آبی گزرگاہوں سے گزرنے کی کوشش کی، تو اسے 23 حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔”
یمنی مزاحمت نے فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ حالیہ حملے امریکی اور اسرائیلی تجارتی اور جنگی جہازوں کو بحیرہ احمر، باب المندب، خلیج عدن اور بحیرہ عرب میں نشانہ بنا رہے ہیں۔
آج ہی یمنی مسلح افواج نے کئی اہم کارروائیوں کا اعلان کیا، جن میں تل ابیب کے بین گوریون ایئرپورٹ پر ہائپرسونک بیلسٹک میزائل حملہ اور بحیرہ احمر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین اور اس کے ہمراہ جنگی جہازوں پر کئی گھنٹوں پر محیط میزائل اور ڈرون حملے شامل ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی پر تنقید
والٹز نے اپنی گفتگو میں پچھلی امریکی حکومت کی حکمتِ عملی پر بھی نکتہ چینی کی اور کہا کہ "ٹرمپ انتظامیہ اور صدر ٹرمپ نے زیادہ سخت اور مضبوط اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔” انہوں نے سابقہ حکومتی کوششوں کو "سطحی حملے” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
یمن پر فضائی حملے تیز
21 مارچ کو امریکی فضائی حملوں نے یمن کے مختلف علاقوں، بشمول صعدہ، الحدیدہ، صنعاء اور البیضاء کو نشانہ بنایا۔ المیادین کے مطابق، الحدیدہ کے علاقے التحیتا پر چھ فضائی حملے کیے گئے، جبکہ صنعاء میں شہری انفراسٹرکچر کے قریب بھی بمباری ہوئی۔ یمنی خبر رساں ایجنسی سبا کے مطابق، ایک حملہ ایک زیرِ تعمیر شادی ہال پر بھی ہوا، جو رہائشی علاقے میں واقع تھا۔
والٹز کا دعویٰ ہے کہ امریکی آپریشنز کا ہدف "انصار اللہ کے اہم انفراسٹرکچر” کو تباہ کرنا تھا۔ ان کے بقول، "ہم نے ان کے ہیڈکوارٹرز، مواصلاتی نیٹ ورک، اسلحہ ساز فیکٹریاں اور حتیٰ کہ ان کے سمندری ڈرونز کی پیداوار کے مراکز تک کو نشانہ بنایا ہے۔” تاہم، ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، اور یمنی ذرائع کے مطابق، ان حملوں میں عام شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔
بحری تجارت پر اثرات
افریقہ کے گرد متبادل راستے اختیار کرنے سے لاگت اور وقت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایل ایس ای جی شپنگ ریسرچ کے مطابق، ان تبدیلیوں کے نتیجے میں یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری سفر کا وقت دوگنا ہو سکتا ہے، جبکہ ہر سفر کے اخراجات میں تقریباً 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔
صورتحال میں بگاڑ کے پیشِ نظر، دنیا کی ایک اہم ترین بحری گزرگاہ میں پیدا ہونے والی یہ خلل جلد ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔

