امریکی جریدے دی اٹلانٹک کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ میں قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام کی ایک نجی سگنل چیٹ گروپ میں ایک صحافی کو غیر ارادی طور پر شامل کر لیا گیا، جہاں یمن پر فوجی حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔
یہ چیٹ گروپ، جس کا نام "حوثی PC اسمال گروپ” تھا، میں شامل اراکین میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیث، قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اہم عہدیدار شامل تھے۔ یہاں حملوں کے وقت، اہداف اور اسلحے کے بارے میں تفصیلات پر تبادلہ خیال ہو رہا تھا— ایسی معلومات جو عام طور پر خفیہ سرکاری نظام تک محدود ہوتی ہیں۔
صحافی کو حملے کی تفصیلات دو گھنٹے پہلے موصول ہوئیں
رپورٹ کے مطابق، دی اٹلانٹک کے ایڈیٹر ان چیف کو حملے کی منصوبہ بندی کا علم تقریباً دو گھنٹے پہلے ہو گیا تھا، جب 15 مارچ کی صبح 11 بج کر 44 منٹ پر انہیں ہیگسیث کا ایک پیغام موصول ہوا جس میں آپریشن کی ٹھوس تفصیلات درج تھیں۔
فضائی حملے دن 2 بجے سے کچھ دیر پہلے شروع ہوئے اور یمن میں مزاحمتی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ حیران کن طور پر، صحافی کو نہ تو چیٹ گروپ سے نکالا گیا اور نہ ہی اس سے کوئی سوال کیا گیا۔
قومی سلامتی کے عہدیداروں میں اختلافات
چیٹ کے دوران، نائب صدر جے ڈی وینس نے آپریشن کے وقت اور اس کے معاشی اثرات پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا:
"مجھے یقین نہیں کہ صدر کو اندازہ ہے کہ یہ اقدام اس وقت یورپ سے متعلق ان کے پیغام کے کتنے برعکس ہے۔ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خطرہ بھی ہے۔ تاہم، میں ٹیم کے فیصلے کی حمایت کے لیے تیار ہوں اور اپنے تحفظات کو خود تک محدود رکھوں گا۔”
دوسری جانب، ہیگسیث اور والٹز نے فوری حملے پر زور دیا۔ ہیگسیث نے جواب دیا:
"چند ہفتے یا مہینہ انتظار کرنے سے کوئی بنیادی فرق نہیں پڑے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں آگے بڑھنا چاہیے، لیکن صدر کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے 24 گھنٹے باقی ہیں۔”
ایک اور پیغام، جو غالباً اسٹیفن ملر کا تھا، میں کہا گیا:
"جیسا کہ میں نے سنا ہے، صدر کا موقف واضح ہے: سبز جھنڈی دے دی گئی ہے، لیکن ہمیں جلد از جلد مصر اور یورپ کو اپنی توقعات سے آگاہ کرنا ہوگا۔”
قومی سلامتی اور قانونی خدشات
رپورٹ کے مطابق، چیٹ میں حساس فوجی معلومات کا تبادلہ ہوا، جس سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ کئی قانونی ماہرین کے مطابق، یہ عمل جاسوسی ایکٹ اور وفاقی ریکارڈ قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔
ریکارڈز کے تحفظ کے قوانین کے تحت، تمام سرکاری اہلکاروں پر غیر سرکاری میسجنگ ایپس، جیسے کہ سگنل، کے ذریعے سرکاری امور انجام دینے پر پابندی ہے، جب تک کہ یہ پیغامات باضابطہ سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہ بنا دیے جائیں۔
مزید برآں، چیٹ گروپ میں کچھ پیغامات آٹو ڈیلیٹ موڈ پر تھے، جس سے ریکارڈ محفوظ رکھنے کے تقاضے مزید مشکوک ہو گئے۔
حملے کے بعد کی مبارکبادیں
حملے کے بعد، چیٹ گروپ میں تعریفی پیغامات کا تبادلہ ہوا۔
مائیکل والٹز نے لکھا: "حیرت انگیز کام!”
جبکہ وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز نے کہا: "سب کو مبارک ہو— خاص طور پر ان لوگوں کو جو میدانِ جنگ اور سینٹ کام میں ہیں! شاندار کام۔ خدا سب کو برکت دے۔”
وائٹ ہاؤس کا ردعمل
قومی سلامتی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز نے تصدیق کی کہ یہ سگنل چیٹ مستند تھی اور کہا کہ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ صحافی کو غیر ارادی طور پر گروپ میں کیسے شامل کیا گیا۔
ہیوز نے دفاع کرتے ہوئے کہا:
"حوثیوں کے خلاف آپریشن کی مسلسل کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس سے قومی سلامتی یا فوجی اہلکاروں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔”
نتائج اور مضمرات
یہ انکشاف حساس فوجی آپریشنز کو ہینڈل کرنے کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
صحافی نے جب معاملے کی سنگینی کا احساس کیا، تب تک حملہ ہو چکا تھا، اور اس کے بعد ہی اس نے خود کو چیٹ گروپ سے ہٹا لیا۔

