ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستانپاکستان کا اپنے 9 ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ بڑھ کر...

پاکستان کا اپنے 9 ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ بڑھ کر 7.36 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
پ

مالی سال 2025 کے پہلے آٹھ ماہ میں پاکستان کا اپنے 9 ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ 36.09 فیصد اضافے کے ساتھ 7 ارب 36 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 5 ارب 41 کروڑ ڈالر تھا۔رپورٹ کے مطابق، حالیہ علاقائی سیاسی تبدیلیوں کے نتیجے میں پاکستان کی برآمدات میں بنگلہ دیش، افغانستان اور سری لنکا کی جانب اضافہ دیکھا گیا ہےتاہم، گزشتہ چند سالوں میں ان ممالک کے ساتھ تجارت کو نمایاں چیلنجز کا سامنا رہا، جس کی بنیادی وجہ غیر سازگار حکومتی پالیسیاں ہیں۔علاقائی ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ بڑھنے کی بڑی وجہ زیر غور مدت کے دوران چین، بھارت اور بنگلہ دیش سے زیادہ درآمدات رہی ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2025 کے جولائی تا فروری کے دوران افغانستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوا، جبکہ دیگر ممالک، خاص طور پر چین کو برآمدات میں کمی کا رجحان برقرار رہا۔مالی سال 2025 کے پہلے 8 ماہ میں پاکستان کی 9 ہمسایہ ممالک—افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ—کو برآمدات 6.64 فیصد اضافے کے ساتھ 3 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 2 ارب 90 کروڑ ڈالر تھیں۔مالی سال 2025 کے پہلے 8 ماہ میں پاکستان کی مجموعی برآمدات 8.42 فیصد اضافے کے ساتھ 22 ارب 7 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 20 ارب 36 کروڑ ڈالر تھیں۔ تاہم، پاکستان کی علاقائی ممالک کو کی جانے والی برآمدات کا حصہ صرف 14.04دوسری جانب، مالی سال 2025 کے 8 ماہ میں درآمدات 25.80 فیصد اضافے کے ساتھ 10 ارب 46 کروڑ ڈالر تک جا پہنچیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 8 ارب 32 کروڑ ڈالر تھیں۔ فیصد رہا۔مزید تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ چین سے درآمدات 25.87 فیصد اضافے کے ساتھ 10 ارب 18 کروڑ ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال 8 ارب 9 لاکھ ڈالر تھیں۔ خطے میں پاکستان کی زیادہ تر درآمدات چین سے ہوتی ہیں، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش بھی جزوی طور پر اس فہرست میں شامل ہیںچین کو پاکستانی برآمدات میں 10.55 فیصد کمی دیکھی گئی، جو ایک ارب 69 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ ایک ارب 89 کروڑ ڈالر تھیں۔بھارت سے درآمدات میں بھی 13.63 فیصد اضافہ ہوا، جو 15 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ 13 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھیں۔ مالی سال 2024 میں بھارت سے درآمدات 8.87 فیصد بڑھ کر 20 کروڑ 68 لاکھ 90 ہزار ڈالر تک جا پہنچی تھیں، جو اس سے پچھلے سال 19 کروڑ 40 ہزار ڈالر تھیں۔ادھر، مالی سال 2025 کے 8 ماہ میں بھارت کو پاکستانی برآمدات 4 لاکھ 10 ہزار ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال 2 لاکھ 30 ہزار ڈالر تھیں۔

افغانستان کے ساتھ تجارت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں مالی سال 2025 کے ابتدائی 8 ماہ میں برآمدات 84.25 فیصد بڑھ کر 50 کروڑ 92 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال 32 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھیں۔ افغانستان سے درآمدات بھی بڑھ کر ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو مالی سال 2024 کے اسی عرصے میں 50 لاکھ 47 ہزار ڈالر تھیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین