جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیامریکی اٹارنی جنرل نے pro-Palestine مظاہرین کو 'گھریلو دہشت گرد' قرار دے...

امریکی اٹارنی جنرل نے pro-Palestine مظاہرین کو ‘گھریلو دہشت گرد’ قرار دے دیا
ا

امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے فلسطین کے حامی طلبہ مظاہرین کو "گھریلو دہشت گرد” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یونیورسٹیاں کیمپس میں یہودی طلبہ کے خلاف سامی دشمنی کو روکنے میں ناکام رہیں تو ان کی وفاقی فنڈنگ ختم کی جا سکتی ہے۔

یونیورسٹیوں پر سخت کارروائی کا مطالبہ
پام بونڈی نے اتوار کو فاکس نیوز سے گفتگو کے دوران کولمبیا یونیورسٹی میں جاری مظاہروں پر بات کرتے ہوئے تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ یہودی طلبہ کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کریں۔

انہوں نے کہا:
"یہ مضحکہ خیز ہے کہ یہ یونیورسٹیاں یہودی طلبہ کی حفاظت کے لیے قدم نہیں اٹھا رہیں بلکہ ان مظاہرین کی حمایت کر رہی ہیں، جو میرے نزدیک کچھ حد تک گھریلو دہشت گرد ہیں۔”

انہوں نے الزام لگایا کہ یہ مظاہرین "کیمپس میں فسادات اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں”، تاہم انہوں نے اس کے ثبوت پیش نہیں کیے۔

کولمبیا یونیورسٹی کی فنڈنگ روکنے کی دھمکی
بونڈی نے مزید کہا کہ اگر یونیورسٹیاں قانون کی پاسداری نہیں کرتیں تو ان کی وفاقی فنڈنگ روک دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پہلے ہی کولمبیا یونیورسٹی سے 400 ملین ڈالر کی فنڈنگ واپس لینے کا فیصلہ کر چکی ہے، کیونکہ وہ یہودی طلبہ کے خلاف مبینہ ہراسانی روکنے میں ناکام رہی۔

سام دشمنی کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن
فروری میں امریکی محکمہ انصاف نے ایک کثیرالجہتی ٹاسک فورس تشکیل دی، جس کا مقصد تعلیمی اداروں میں سام دشمنی کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروپ وفاقی قوانین کے نفاذ کو یقینی بنائے گا اور کیمپس میں سام دشمن سرگرمیوں کو جڑ سے اکھاڑنے پر کام کرے گا۔

طلبہ کے مظاہرے اور اسرائیل-فلسطین تنازع
گزشتہ سال، امریکہ بھر میں مختلف یونیورسٹیوں میں طلبہ کے احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے، جن میں مظاہرین نے غزہ جنگ کے دوران واشنگٹن کی اسرائیل کو حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ مظاہرے اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد شروع ہوئے، جس میں تقریباً 1,200 اسرائیلی ہلاک اور 250 کو یرغمال بنایا گیا۔ اس کے ردعمل میں اسرائیلی فوج کی جوابی کارروائی میں غزہ میں 50,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ علاقے کو شدید تباہی کا سامنا ہے۔

کیمپس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
کولمبیا یونیورسٹی، یو سی برکلے، ہارورڈ، ییل، مشی گن، اور نارتھ ویسٹرن ان تعلیمی اداروں میں شامل ہیں جو اس احتجاجی تحریک کا مرکز بنے۔

مظاہرین، بشمول یہودی طلبہ، کا موقف ہے کہ اسرائیلی پالیسی پر تنقید کو سام دشمنی نہیں سمجھا جانا چاہیے اور فلسطینی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا امریکی اقدار کے مطابق ہے۔

تاہم، کچھ طلبہ کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں سے یونیورسٹیوں میں یہودی طلبہ کے لیے ایک مخالفانہ ماحول پیدا ہو گیا ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کی ایک ٹاسک فورس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ یہودی طلبہ کو سنجیدہ اور وسیع پیمانے پر درپیش مسائل کا سامنا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین