ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیکشمیریوں کی مذہبی آزادی پر ایک اور وار؛ بارہمولہ میں یوم علیؓ...

کشمیریوں کی مذہبی آزادی پر ایک اور وار؛ بارہمولہ میں یوم علیؓ کے جلوس پر پابندی
ک

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام نے میرگنڈ میں سخت پابندیاں نافذ کرکے عزاداری کے جلوس کو روک دیا۔کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق، بھارتی انتظامیہ نے امام بارگاہ کے داخلی راستے سیل کر کے لوگوں کو مجلس میں شرکت سے محروم کر دیا۔کشمیریوں کی مذہبی قیادت کو دبانے کی کوشش کے تحت، مولانا مسرور عباس انصاری کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ چند روز قبل، بھارتی وزارت داخلہ نے اتحادالمسلمین پر پابندی لگا کر مذہبی جماعتوں کو نشانہ بنایا۔مولانا مسرور عباس نے عزاداری کے جلوس پر پابندی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اسے مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت کہا۔ مقبوضہ کشمیر میں ماضی میں بھی مذہبی آزادی پر سخت قدغنیں لگائی گئی ہیں۔2016 میں جامع مسجد سرینگر میں مسلسل 19 ہفتوں تک نماز جمعہ کی ادائیگی ممکن نہ ہو سکی۔ 2019 میں، بھارتی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے جامع مسجد اور دیگر اہم مذہبی مقامات کو بند کر دیا، جس کے نتیجے میں چھ ماہ تک جامع مسجد میں نماز جمعہ پر پابندی عائد رہی۔دسمبر 2021 میں، بھارتی انتظامیہ نے سرینگر سمیت دیگر علاقوں میں میلاد النبیؐ کے جلوسوں پر پابندی لگائی۔ جولائی 2022 میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کے خلاف ہدایات جاری کی گئیں۔اپریل 2023 میں شب برات کے موقع پر قبرستانوں میں عوامی اجتماعات کو محدود کر دیا گیا اور مساجد میں عبادات پر پابندی لگا دی گئی۔ اکتوبر 2023 میں عاشورہ کے جلوسوں پر بھی پابندی عائد کی گئی، جبکہ کئی علاقوں میں احتجاج کرنے والوں پر لاٹھی چارج کیا گیا۔فروری 2024 میں شب معراج کے موقع پر مختلف مساجد میں عوامی اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی۔
مقبول مضامین

مقبول مضامین