جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیامریکی بے دخلی کے بعد جنوبی افریقی سفیر کا ہیرو کی طرح...

امریکی بے دخلی کے بعد جنوبی افریقی سفیر کا ہیرو کی طرح وطن واپسی
ا

ٹرمپ انتظامیہ نے جنوبی افریقہ کے سفیر ابراہیم رسول کو بے دخل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ اتوار کے روز کیپ ٹاؤن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سینکڑوں حامیوں کے شاندار استقبال کے ساتھ وطن واپس پہنچے۔ ان کے استقبال میں گیت گائے گئے اور بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا گیا۔

رسول اور ان کی اہلیہ روسیڈا کے ایئرپورٹ پہنچنے پر عوام کا جم غفیر امڈ آیا، جس کے باعث انہیں پولیس کے حفاظتی حصار میں ٹرمینل سے گزرنا پڑا۔

"یہ بے دخلی نہیں، وقار کا تمغہ ہے”

حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے رسول نے میگا فون کے ذریعے کہا: "کسی کو ‘ناپسندیدہ شخصیت’ قرار دینا دراصل اسے ذلیل کرنے کے لیے ہوتا ہے، لیکن جب آپ کا استقبال ایسی محبت اور گرمجوشی سے ہو، تو میں اسے وقار کا تمغہ سمجھ کر پہنوں گا۔”

انہوں نے مزید کہا، "یہ ہمارا اپنا فیصلہ نہیں تھا کہ ہم وطن واپس آئیں، لیکن ہم بغیر کسی پچھتاوے کے لوٹے ہیں۔”

امریکی بے دخلی کی وجوہات

ٹرمپ انتظامیہ نے رسول کو ایک ویبینار میں دیے گئے ان کے تبصرے کے بعد بے دخل کیا، جس میں انہوں نے MAGA تحریک (Make America Great Again) کو "برتری کے رجحان پر مبنی تحریک” قرار دیا تھا۔

یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کر گیا، جو پہلے ہی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے متاثر ہو رہے تھے۔

امریکہ نے جنوبی افریقہ کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے، جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت تمام امریکی امداد کا خاتمہ شامل تھا۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ جنوبی افریقی حکومت "حماس اور ایران کی حمایت کر رہی ہے اور ملک میں نسل پرستانہ پالیسیوں کو فروغ دے رہی ہے۔”

امریکہ مخالف نہیں، لیکن خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں

سفارتی تناؤ کے باوجود، رسول نے زور دیا کہ جنوبی افریقہ کو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا:

"ہم یہاں یہ کہنے نہیں آئے کہ ہم امریکہ مخالف ہیں۔ ہم آپ سے یہ مطالبہ نہیں کر رہے کہ آپ امریکہ کے ساتھ اپنے مفادات ختم کر دیں۔”

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے سرکاری طور پر رسول کی بے دخلی کا اعلان کرتے ہوئے انہیں "نسلی منافرت کو ہوا دینے والا سیاستدان” قرار دیا۔ روبیو نے براہِ راست کوئی وجہ بیان نہیں کی، لیکن ان کے سوشل میڈیا پوسٹ میں ایک بریٹبارٹ مضمون کا حوالہ دیا گیا، جس میں رسول کے امریکہ میں آبادیاتی تبدیلیوں پر تبصرے کا ذکر تھا۔

رسول نے اپنے بیان پر قائم رہتے ہوئے وضاحت کی، "یہ اب اوباما کا امریکہ نہیں، یہ کلنٹن کا امریکہ نہیں، یہ ایک مختلف امریکہ ہے، اور اسی لیے ہماری سفارتی زبان بھی تبدیل ہونی چاہیے۔ میں اپنے تجزیے پر قائم رہوں گا، کیونکہ ہم کسی شخصیت، کسی قوم یا کسی حکومت پر تبصرہ نہیں کر رہے تھے بلکہ ایک سیاسی رجحان کا تجزیہ کر رہے تھے۔”

"اسرائیل کے خلاف کیس واپس نہیں لیں گے”

ابراہیم رسول نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ جنوبی افریقہ عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) میں اسرائیل کے خلاف دائر نسل کشی کے مقدمے کو ہر حال میں جاری رکھے گا اور امریکی دباؤ کے باوجود اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

امریکی حکومت نے اس کیس کو اسرائیل کے خلاف ایک "معاندانہ اقدام” قرار دیا اور اسے جنوبی افریقہ کی "امریکہ مخالف پالیسی” کی ایک اور مثال کے طور پر پیش کیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین