جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامییمن، لبنان پر اسرائیلی جارحیت پر خاموش نہیں رہے گا: عبدالملک الحوثی

یمن، لبنان پر اسرائیلی جارحیت پر خاموش نہیں رہے گا: عبدالملک الحوثی
ی

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان اور وادی بقاع میں دو مرحلوں میں وسیع فضائی حملے کیے، جن میں کئی شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اتوار کے روز انصار اللہ کے رہنما، سید عبدالملک الحوثی نے اس بات پر زور دیا کہ یمن، لبنان کے ساتھ پوری مضبوطی سے کھڑا ہے، کیونکہ "اسرائیل” نے جمعہ اور ہفتے کو لبنان کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ یمن، اسرائیل کی جانب سے لبنان کے مختلف علاقوں پر کیے گئے حملوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ان حملوں کو "بلاجواز جارحیت” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یمن کا اصولی اور غیر متزلزل موقف حزب اللہ اور لبنانی عوام کی مکمل حمایت کرتا ہے، چاہے صورتِ حال کوئی بھی رخ اختیار کرے یا صیہونی جارحیت میں مکمل شدت آ جائے۔”

یمنی رہنما نے دوٹوک الفاظ میں کہا، "ہم لبنان پر ہونے والے صیہونی حملے خاموشی سے نہیں دیکھ سکتے۔” انہوں نے حزب اللہ اور لبنانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "آپ تنہا نہیں ہیں؛ ہم ہر جارحیت کے خلاف آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔” انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یمن، لبنان کے عوام اور حزب اللہ کی حمایت کے لیے تیار ہے۔

لبنان میں جنگ بندی کی نئی خلاف ورزیاں، درجنوں فضائی حملے

الما‌یادین کے جنوبی لبنان میں موجود نامہ نگار کے مطابق، 22 مارچ کو اسرائیلی توپ خانے نے گورنریٹ نبطیہ میں یحمور الشقیف کے مضافات کو نشانہ بنایا۔

یہ جارحیت جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں تک پھیل گئی، اور اسرائیلی فضائیہ نے کل 32 حملے کیے، جن میں متعدد قصبے نشانہ بنے۔

مرجعیون ضلع کے علاقے طولین پر اسرائیلی حملے میں دو شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ اسرائیلی جنگی طیارے علاقے کی فضا میں مسلسل گشت کرتے رہے۔

لبنانی وزارتِ صحت کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق، سرحدی قصبے کفرکیلا میں اسرائیلی گولہ باری کے نتیجے میں دو شہری زخمی ہوئے۔

الما‌یادین کے نامہ نگار نے مزید اطلاع دی کہ اسرائیلی حملے رشایا الفخار، الخیام اور یاتر و بیت لیف کے درمیان علاقے میں بھی کیے گئے۔ اگرچہ پہلے سے ہونے والی گولہ باری کے بعد ان علاقوں میں محتاط سکون تھا، تاہم الخیام کے مضافات پر اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری جاری رہی۔

دیگر اسرائیلی فضائی حملے اقلیم الطفاح پہاڑی سلسلے اور جبل الریحان کے علاقوں پر بھی کیے گئے۔

کشیدگی میں شدت، اسرائیل کی نئی فضائی کارروائیاں

22 مارچ کی شام، اسرائیلی فوج نے جنوبی اور مشرقی لبنان میں کئی مقامات پر ایک اور سلسلہ وار فضائی حملے کیے، جو جنگ بندی معاہدے اور لبنانی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی تھے۔

الما‌یادین کے نامہ نگار کے مطابق، ان حملوں میں سے ایک جنوبی لبنان کے شہر صور کے آثارِ قدیمہ والے علاقے میں ایک عمارت پر کیا گیا۔

صور میں اسرائیلی افواج نے متعدد حملے کیے، جن میں وادی زبقین، وادی الشوماریہ، اور سریفا، فرون اور غندوریہ کے درمیان کا علاقہ شامل تھا۔ دیگر حملے دیر قانون النہر اور وادی سینیا کے مضافاتی علاقوں میں کیے گئے۔

لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق، طولین پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں پانچ شہری شہید ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

مزید برآں، اسرائیلی فضائیہ نے اقلیم الطفاح کی بلند پہاڑیوں پر بمباری کی، جبکہ مشرقی لبنان میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے وادی بقاع میں نبی شیث کے قصبے کے گرد و نواح کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے بقاع خطے میں سرحدی قصبے القصر کے مضافات کو بھی نشانہ بنایا، جو لبنان کی علاقائی سالمیت کی ایک اور سنگین خلاف ورزی ہے۔

لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق، ابتدائی اطلاعات میں صور میں ایک شہید اور سات زخمیوں کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ وادی بقاع میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 10 مزید افراد زخمی ہوئے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین