جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامی"400 ملین ڈالر کی فنڈنگ کے عوض کولمبیا یونیورسٹی کا فلسطین حامی...

"400 ملین ڈالر کی فنڈنگ کے عوض کولمبیا یونیورسٹی کا فلسطین حامی مظاہروں پر کریک ڈاؤن کی منظوری”
&

کولمبیا یونیورسٹی نے امریکی حکومت کے ایک سلسلہ وار مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، جن کا مقصد فلسطین کے حق میں ہونے والے احتجاج پر سختی کرنا ہے، تاکہ وفاقی سطح پر روکی گئی 400 ملین ڈالر کی فنڈنگ بحال کی جا سکے۔

رواں ماہ کے اوائل میں، حکومت نے کولمبیا یونیورسٹی کو دی جانے والی 400 ملین ڈالر کی گرانٹس اور معاہدے منسوخ کر دیے تھے۔ اس فیصلے کی وجہ یونیورسٹی پر لگایا گیا یہ الزام تھا کہ وہ نیویارک میں اپنے کیمپس میں جاری فلسطین حامی مظاہروں کے ذریعے مبینہ طور پر سام دشمنی (Anti-Semitism) کی حمایت کر رہی ہے۔ یہ مظاہرے گزشتہ ایک سال سے جاری تھے، جو اسرائیل کے غزہ پر جاری نسل کش حملے کے خلاف طالب علموں کی طرف سے کیے جا رہے تھے۔

حکومت کی جانب سے دی گئی ڈیڈلائن ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل، یونیورسٹی نے ایک میمو جاری کیا، جس میں ٹرمپ انتظامیہ کے مطالبات کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ ان شرائط کو پورا کرنا وفاقی فنڈنگ کی بحالی کے لیے ایک پیشگی شرط قرار دیا گیا۔

یونیورسٹی نے بیشتر حکومتی مطالبات تسلیم کرتے ہوئے جو اقدامات اٹھانے پر رضامندی ظاہر کی، ان میں کیمپس میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی، احتجاج اور مظاہروں پر سخت قدغن، سیکیورٹی اہلکاروں کو مظاہرین کو ہٹانے یا گرفتار کرنے کے وسیع اختیارات دینا، اور مشرق وسطیٰ کے متعلقہ مطالعاتی اداروں اور نصاب پر امریکی حکام کو کنٹرول دینا شامل ہے۔

یونیورسٹی کے میمو کے مطابق، فیکلٹی کے کنٹرول کی اس منتقلی کی نگرانی کے لیے ایک نیا عہدیدار مقرر کیا جائے گا، جبکہ سینئر وائس پرووسٹ تعلیمی پروگراموں کا جائزہ لے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تعلیمی مواد جامع اور متوازن ہو۔

یہ جائزہ ان پروگراموں سے شروع ہوگا جو مشرق وسطیٰ سے متعلق ہیں، جیسے سینٹر فار فلسطین اسٹڈیز، انسٹی ٹیوٹ فار اسرائیل اینڈ جیوش اسٹڈیز، اور مشرق وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ۔ اطلاعات کے مطابق، نیا عہدیدار یونیورسٹی کے غیر مستقل اساتذہ کی بھرتیوں اور نصاب میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی منظوری کے عمل کا بھی نگران ہوگا۔

تاحال، یونیورسٹی کے منجمد فنڈز کی حیثیت واضح نہیں ہے، کیونکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے کولمبیا یونیورسٹی کے میمو پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ کے سامنے یونیورسٹی کے اس انحراف نے دیگر کم از کم 60 جامعات کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ان اداروں کو بھی حکومت کی جانب سے متنبہ کیا جا چکا ہے کہ اگر انہوں نے فلسطین حامی جذبات اور اسرائیل کی غزہ پر جارحیت اور فلسطینی سرزمین پر فوجی قبضے پر تنقید سے اجتناب نہ کیا تو انہیں بھی اسی قسم کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین