ایک کانگریسی کمیٹی نے الزام لگایا ہے کہ چینی بین الاقوامی طلبہ غیر قانونی طور پر حساس تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چینی حکومت نے امریکہ میں زیر تعلیم اپنے طلبہ کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ ایک کانگریسی کمیٹی نے چھ امریکی یونیورسٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان چینی طلبہ کی تفصیلات فراہم کریں جو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
نشانہ بننے والی یونیورسٹیاں
جمعرات کے روز امریکی ایوانِ نمائندگان کی چینی کمیونسٹ پارٹی پر منتخب کمیٹی کے چیئرمین نے کارنیگی میلن یونیورسٹی، پرڈیو یونیورسٹی، اسٹینفورڈ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف الینوائے، یونیورسٹی آف میری لینڈ اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کو خطوط ارسال کیے۔
چیئرمین جان مولینار نے دعویٰ کیا کہ چین اپنے طلبہ کو امریکہ کی اعلیٰ تحقیقی جامعات میں اس مقصد کے تحت داخل کر رہا ہے تاکہ وہ غیر قانونی طور پر انتہائی حساس تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر سکیں۔
انہوں نے اپنے خط میں لکھا:
"امریکہ اس وقت ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں تعلیمی ادارے قلیل مدتی مالی فوائد کے حصول کی دوڑ میں طویل مدتی عالمی ٹیکنالوجیکل برتری اور قومی سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔”
مولینار نے مزید کہا کہ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ یونیورسٹیاں جاسوسی اور دانشورانہ املاک کی چوری کے لیے نرم ہدف (Soft Target) ہیں۔
انہوں نے امریکی طالبعلم ویزہ نظام کو "بیجنگ کے لیے ایک ٹروجن ہارس” (چھپی ہوئی سازش) قرار دیتے ہوئے کہا کہ:
"امریکی یونیورسٹیاں نادانستہ طور پر چین کی ٹیکنالوجیکل اور عسکری ترقی کے لیے نرسری کا کردار ادا کر رہی ہیں۔”
یونیورسٹیوں سے طلب کردہ معلومات
کمیٹی نے ان یونیورسٹیوں سے چینی طلبہ کی مالی معاونت کے ذرائع اور ان کی تحقیقی سرگرمیوں کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
خط میں یہ بھی دریافت کیا گیا ہے کہ ان اداروں نے غیر ملکی شہریوں کو امریکی حکومت کے فنڈ شدہ منصوبوں پر کام کرنے سے روکنے کے لیے کیا پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں۔
چین کا ردِعمل
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماو نِنگ نے امریکی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:
"امریکہ کو قومی سلامتی کے تصور کو حد سے زیادہ نہ بڑھانا چاہیے اور چینی طلبہ کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے۔”
ماو ننگ نے کہا کہ چینی طلبہ امریکہ میں زیرِ تعلیم تمام غیر ملکی طلبہ کا 25 فیصد ہیں اور وہ امریکہ کی معاشی خوشحالی اور ٹیکنالوجیکل ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
چینی طلبہ کے خلاف امتیازی رویہ؟
حالیہ برسوں میں امریکی یونیورسٹیاں چینی طلبہ کو ایک اہم مالیاتی ذریعہ کے طور پر دیکھتی رہی ہیں، کیونکہ وہ اکثر مکمل ٹیوشن فیس ادا کرتے ہیں۔
تاہم، مولینار نے چینی طلبہ کی بڑی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ:
"بین الاقوامی طلبہ، خاص طور پر چین جیسے مخالف ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ، امریکی طلبہ کے مواقع چھین رہے ہیں اور امریکی اقتصادی و تکنیکی قیادت کے لیے طویل مدتی خطرہ بن رہے ہیں۔”
چینی طلبہ پر ویزہ پابندی کا متنازعہ بل
یہ خطوط ایک ایسے وقت میں لکھے گئے جب ریپبلکن رکنِ کانگریس، رائلی مور نے گزشتہ ہفتے (14 مارچ) "اسٹاپ سی سی پی ویزہ ایکٹ” (Stop CCP Visas Act) کے نام سے ایک بل متعارف کرایا، جس کا مقصد چینی شہریوں کو امریکہ میں ویزہ حاصل کرنے اور تعلیمی تبادلوں میں شرکت سے روکنا ہے۔
انہوں نے چینی طلبہ پر جاسوسی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ:
"ہمیں اپنی جامعات میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے ایجنٹوں کو داخل ہونے سے روکنا ہوگا۔”
قانونی چیلنج اور تاریخی مماثلت
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بل امریکی سینیٹ سے منظوری حاصل کرنے میں ناکام رہے گا کیونکہ اس کے خلاف شدید مزاحمت پائی جاتی ہے۔
ناقدین نے اس قانون سازی کو "چینی اخراج ایکٹ” (Chinese Exclusion Act) کی یاد دلاتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا، جو 1882 سے 1943 تک چینی شہریوں کی امریکہ آمد پر پابندی لگانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

