سی این این کو فراہم کردہ متعدد ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ منصوبہ نہ تو اسٹریٹیجک لحاظ سے اہم ہے اور نہ ہی مالی طور پر قابل عمل۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "گولڈن ڈوم” دفاعی منصوبے کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جسے امریکی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے "غیر مؤثر” اور حد سے زیادہ مہنگا قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ اقدام اس ایگزیکٹو آرڈر کے بعد سامنے آیا ہے، جو جنوری میں صدر ٹرمپ نے جاری کیا تھا۔ اس حکم کے تحت وزیر دفاع کو 60 دن کے اندر آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام کے ڈیزائن کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
اپنے حالیہ کانگریسی خطاب میں ٹرمپ نے گولڈن ڈوم سسٹم کی ترقی کے لیے فنڈنگ کی درخواست کی، اور اس کے کردار کو بیلسٹک، ہائپر سونک، اور جدید کروز میزائلوں سے امریکی تحفظ کے لیے اہم قرار دیا۔
مجوزہ نظام میں خلا میں نصب ٹریکنگ سینسرز شامل ہیں، جو حملہ آور میزائلوں کی نشاندہی کریں گے، جبکہ ایسے انٹرسیپٹرز بھی ہوں گے جو ابتدائی مرحلے میں خطرے کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ منصوبہ امریکی حکومت کی جانب سے قومی سلامتی کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے ذریعے مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
سی این این کو فراہم کردہ متعدد ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی نہ تو کوئی اسٹریٹیجک اہمیت ہے اور نہ ہی مالی لحاظ سے کوئی فائدہ۔
ذرائع کا ماننا ہے کہ یہ منصوبہ دراصل ٹرمپ انتظامیہ کے اس مبہم منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے، جس کے تحت "اسرائیل” کے آئرن ڈوم کی طرز پر ایک میزائل دفاعی نظام قائم کیا جانا تھا۔
دوسری جانب، پینٹاگون 2026 کے دفاعی بجٹ کو وزیر دفاع ہیگستھ کے ترجیحی منصوبوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے اہم تبدیلیاں کر رہا ہے، جن میں "گولڈن ڈوم” کے ذریعے امریکی سرزمین کے میزائل دفاع کو مضبوط کرنا شامل ہے۔
تاہم، یہ واضح نہیں کہ پینٹاگون اپنے بجٹ میں ٹرمپ کے "گولڈن ڈوم” کے لیے کتنی رقم مختص کرے گا اور اس منصوبے کی مجموعی مالی لاگت کس طرح طے کی جائے گی۔

