جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیسروے: 63% اسرائیلی عوام کو "جمہوریت" کے مستقبل پر خدشات

سروے: 63% اسرائیلی عوام کو "جمہوریت” کے مستقبل پر خدشات
س

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی کابینہ نے جمعہ کی علی الصبح متفقہ طور پر شِن بیت کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جو کہ پہلی بار ہے کہ کسی موجودہ داخلی سیکیورٹی ایجنسی کے سربراہ کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

جمعہ کو شائع ہونے والے ایک نئے سروے کے مطابق، جو کہ شِن بیت کے سربراہ رونن بار کی برطرفی کے فیصلے کے ایک دن بعد سامنے آیا، تقریباً دو تہائی اسرائیلی عوام کو ناجائز صیہونی ریاست کے "جمہوری” مستقبل کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔

اسرائیلی چینل 12 کے سروے میں جب عوام سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اسرائیلی "جمہوریت” کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں، تو 63% نے "ہاں” میں جواب دیا، 33% نے "نہیں” کہا، جبکہ 4% غیر یقینی تھے۔ حکمران جماعتوں کے ووٹرز میں سے 37% نے "ہاں”، 60% نے "نہیں”، اور 3% نے "غیر یقینی” کا جواب دیا۔

نیتن یاہو کی کابینہ نے شِن بیت کے سربراہ رونن بار کی برطرفی کے حق میں متفقہ طور پر ووٹ دیا، اور ان کی مدتِ ملازمت 10 اپریل کو باضابطہ طور پر ختم ہو جائے گی، اگرچہ وہ نئے متبادل کی تصدیق کے بعد پہلے بھی جا سکتے ہیں۔

نیتن یاہو نے بار کے خلاف اعتماد کی کمی کو بنیاد بنا کر یہ اقدام کیا، خاص طور پر 7 اکتوبر کی تحقیقات کے تناظر میں۔ وزیر اعظم نے بار کو "نرم” قرار دیا اور کہا کہ وہ ایجنسی کی بحالی کے لیے موزوں نہیں، جبکہ ان کی برطرفی کے بعد قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات میں بہتری دیکھی گئی۔ تاہم، حماس کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کا معاہدہ بار کی مذاکرات سے علیحدگی سے کئی ہفتے قبل ہی طے پا چکا تھا۔

ایک اور حالیہ سروے، جو رائخ مین یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار لبرٹی اینڈ رسپانسبلیٹی نے کیا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام کا 44% سپریم کورٹ پر، 43% اٹارنی جنرل پر، جبکہ صرف 17% حکومت پر اعتماد رکھتے ہیں۔

بڑھتے ہوئے اختلافات

اس فیصلے نے عوامی ردعمل کو جنم دیا، اور اسرائیل بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے۔ ہزاروں افراد نیتن یاہو کے دفتر کے باہر جمع ہوئے اور نعرے لگائے، "ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔” پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جہاں پولیس نے پانی کی توپوں کا استعمال کیا اور سڑکیں بلاک کرنے والے مظاہرین کو زبردستی ہٹایا۔

چینل 12 کے ایک سروے کے مطابق، 51% اسرائیلی عوام بار کی برطرفی کے خلاف ہیں، جبکہ 46% بار کو نیتن یاہو سے زیادہ قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے اس فیصلے کی مذمت کی، بینجمن گانٹز نے اسے وزراء کے لیے "داغ” قرار دیا، جبکہ یائر لاپید نے الزام لگایا کہ یہ "قطر تحقیقات کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔”

دوسری طرف، حکومت اٹارنی جنرل گالی بہاراو میارا کو ہٹانے کی کوششیں بھی تیز کر رہی ہے، جو بار کی برطرفی کی مخالف تھیں اور نیتن یاہو کو پہلے ہی خبردار کر چکی تھیں کہ ان کے پاس ایسا کرنے کا قانونی اختیار نہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ان کی برطرفی پر ووٹنگ اتوار کے روز ہو سکتی ہے۔

اندرونی انتشار اور تصادم کا خدشہ

جیسے جیسے اسرائیل غزہ پر اپنی وحشیانہ جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے، جسے عالمی سطح پر نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے، اور لبنان کے ساتھ جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے، ناجائز صیہونی ریاست کے اندرونی تنازعات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔

رونن بار کی برطرفی کے فیصلے نے سیاسی اور سیکیورٹی کشیدگی کو مزید بھڑکا دیا ہے، جس سے داخلی انتشار اور خانہ جنگی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ناقدین کے مطابق، یہ اقدام نیتن یاہو کی حکومت کے اختیارات کو مستحکم کرنے اور اپنی بدعنوانیوں کی تحقیقات روکنے کی ایک کوشش ہے۔

موجودہ صورتحال میں، اسرائیل کئی محاذوں پر جنگ میں الجھا ہوا ہے اور اندرونی طور پر شدید عدم استحکام کا شکار ہے، جس سے اندرونی مسلح تصادم کے امکانات مزید قوی ہوتے جا رہے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین