جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیاستنبول کے میئر کی عدالتی پیشی، ترکی بھر میں پابندی کے باوجود...

استنبول کے میئر کی عدالتی پیشی، ترکی بھر میں پابندی کے باوجود احتجاج جاری
ا


استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو نے ہفتے کے روز عدالت میں پیش ہو کر استغاثہ کے سوالات کے جوابات دیے۔ یہ پیشی ان پر کرپشن اور دہشت گردی سے تعلق کے الزامات کے بعد ہوئی، جب کہ ان کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔

استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی کہ امام اوغلو، جو کہ صدر رجب طیب اردوان کے ایک اہم سیاسی حریف ہیں، اور ان کے چار قریبی ساتھیوں کو مقدمے کی سماعت تک جیل میں رکھا جائے۔ ان کے دفتر کے مطابق، عدالت اتوار کی صبح تک ان کی حراست پر فیصلہ دے سکتی ہے۔

جمعرات سے اب تک درجنوں شہروں میں دسیوں ہزار مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، جن میں استنبول اور دارالحکومت انقرہ بھی شامل ہیں۔ یہ مظاہرے زیادہ تر پرامن رہے، لیکن حکومت کی جانب سے اجتماعات پر عائد پابندی کے باوجود جاری رہے۔

امام اوغلو کے حامیوں نے ان کی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام حکومت کی جانب سے اپوزیشن پر کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ گزشتہ سال کے بلدیاتی انتخابات میں اردوان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پارٹی) کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت 2028 کے صدارتی انتخابات سے قبل ممکنہ حریفوں کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ہفتے کے روز ہزاروں افراد استنبول کے ضلع ساراج ہانے میں واقع میونسپلٹی بلڈنگ کے باہر جمع ہوئے، جہاں وہ ترکی کے جھنڈے لہرا رہے تھے اور نعرے لگا رہے تھے۔ اسی دوران، امام اوغلو کی پیشی کے موقع پر قاضیلیان عدالت کے باہر بھی ان کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

مظاہرین نے اجتماعات پر عائد پابندی کو نظر انداز کیا، جو 26 مارچ تک بڑھا دی گئی ہے۔ پولیس نے دونوں مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور مرچوں کا اسپرے استعمال کیا، جب کہ بعض مظاہرین نے آتش بازی اور دیگر اشیاء پھینکیں۔

مغربی ساحلی صوبے ازمیر اور دارالحکومت انقرہ میں بھی مسلسل تیسرے روز پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جہاں پولیس نے مظاہرین پر واٹر کینن کا استعمال کیا۔

ترک حکام نے اب تک 323 افراد کو ان مظاہروں کے دوران گرفتار کیا ہے، جن میں امام اوغلو کے پریس ایڈوائزر مرات اونگون سمیت تقریباً 100 افراد شامل ہیں۔ وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے اتوار کی صبح ان گرفتاریوں کی تصدیق کی۔

امام اوغلو 2019 اور پھر 2024 میں استنبول کے میئر منتخب ہوئے۔ ترکی میں اگلے صدارتی انتخابات 2028 میں متوقع ہیں، تاہم بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اردوان قبل از وقت انتخابات کروا سکتے ہیں تاکہ وہ آئینی مدت کی حد سے بچ سکیں۔

ترکی کی مرکزی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) نے ان الزامات کو "سیاسی انتقام” اور "بغاوت کی کوشش” قرار دیا ہے۔

ہفتے کے روز استنبول میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سی ایچ پی کے رہنما اوزگور اوزل نے عوام سے اپیل کی کہ وہ "نوجوانوں، استنبول، اکرم امام اوغلو اور دیگر گرفتار شدگان” کے لیے متحد ہوں۔

انہوں نے کہا، "ملک میں لاکھوں لوگ ہیں جو خوفزدہ نہیں ہیں۔” ان کا یہ بیان صدر اردوان کی طرف اشارہ تھا۔

دوسری جانب، اردوان نے اپوزیشن کے ردعمل کو "ڈرامہ” اور "کھوکھلے نعرے” قرار دیا، اور کہا کہ "ترکی کے پاس اس طرح کے تماشوں کے لیے وقت نہیں ہے۔”

حکومت نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امام اوغلو کی گرفتاری کو اردوان یا سیاست سے جوڑنا غلط ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ عدلیہ آزاد اور غیر جانبدار ہے۔

ہفتے کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک بیان میں اردوان نے خبردار کیا: "ترکی میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا، "ہم سی ایچ پی اور اس کے حامیوں کو اشتعال انگیزی کے ذریعے عوامی نظم و ضبط بگاڑنے اور قوم کا سکون تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔”

وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے ہفتے کے روز کہا کہ "جو لوگ سماجی نظم و ضبط کو متاثر کریں گے، قومی امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈالیں گے، اور انتشار پھیلانے کی کوشش کریں گے، انہیں ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔”

وزارت داخلہ کے مطابق، ان مظاہروں کے دوران اب تک کم از کم 16 پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین