جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیایرانی سپریم لیڈر کی سخت سرزنش کے بعد امریکہ کا یوٹرن –...

ایرانی سپریم لیڈر کی سخت سرزنش کے بعد امریکہ کا یوٹرن – سفارتی تعلقات میں نیا موڑ
ا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے سفیر، اسٹیو وٹکوف نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی حکومت کو لکھا گیا حالیہ خط دھمکی پر مبنی نہیں تھا، بلکہ اس کا مقصد ایران کے ساتھ اعتماد کی بحالی تھا۔

7 مارچ کو صدر ٹرمپ نے فاکس بزنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کو ایک خط لکھا ہے، جس میں ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

13 مارچ کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ امریکی صدر کا یہ خط متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش کے ذریعے موصول ہوا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے، وٹکوف نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے آمادہ ہیں اور اس مقصد کے لیے باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے 22 مارچ کو امام خمینی (رح) کمپلیکس میں خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر امریکی حکام ایرانی قوم کے خلاف کسی بھی معاندانہ حرکت میں ملوث ہوئے تو انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر دشمنوں نے ایران کے خلاف اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی تو انہیں شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

قبل ازیں، 17 مارچ کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان، اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران صدر ٹرمپ کے خط کا جائزہ لینے کے بعد مناسب سفارتی ذرائع سے اس کا جواب دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تہران اس خط کے مندرجات کو عام کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، اور میڈیا میں گردش کرنے والی بیشتر رپورٹس محض قیاس آرائیاں ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین