پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی، KSE-100 انڈیکس 119,000 کی حد عبور کر گیا
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے گزشتہ ہفتے ایک زبردست بُل رن کا مشاہدہ کیا، جس میں KSE-100 انڈیکس پہلی بار 119,000 کی سطح عبور کر گیا۔
مارکیٹ میں زبردست تیزی کی وجوہات:
✔ آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کی امید، جو $7 بلین کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) پروگرام کے پہلے جائزے کی راہ ہموار کرے گا۔
✔ قومی معیشت میں بہتری کے آثار، جس میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 97% کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
✔ قومی بچت اسکیموں (NSS) پر منافع کی شرح میں اضافے کے باوجود سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہا۔
✔ بجلی کے گردشی قرضے کے مسئلے کے ممکنہ حل کی خبروں نے مارکیٹ میں مزید مثبت اثر ڈالا۔
✔ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں $49 ملین کا اضافہ، جو اب $11.1 بلین تک پہنچ چکے ہیں۔
ہفتے بھر کی کارکردگی:
📈 پیر: KSE-100 انڈیکس نے 1,100 پوائنٹس کی انٹرا ڈے بلند ترین سطح دیکھی، اور دن کے اختتام پر 663 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا۔
📈 منگل: 801 پوائنٹس کا مزید اضافہ ہوا، جو سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
📈 بدھ: مارکیٹ نے 117,974 کی تاریخی سطح پر پہنچتے ہوئے 973 پوائنٹس کا اضافہ حاصل کیا۔
📈 جمعرات: KSE-100 انڈیکس 119,000 کی حد عبور کر گیا اور 796 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ چھ دن کی مسلسل تیزی جاری رکھی۔
📉 جمعہ: حکومت کی جانب سے NSS پر منافع میں اضافے کے فیصلے کے باعث 328 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی، مگر ہفتے کے اختتام پر مارکیٹ 118,442 کی سطح پر بند ہوئی، جس نے ہفتہ وار 2.5% (2,906 پوائنٹس) کا اضافہ ظاہر کیا۔
سیکٹر وائز کارکردگی:
🔼 مثبت کردار ادا کرنے والے سیکٹرز:
✔ آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن (1,086 پوائنٹس)
✔ ٹیکنالوجی (416 پوائنٹس)
✔ پاور (273 پوائنٹس)
✔ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (213 پوائنٹس)
✔ سیمنٹ (202 پوائنٹس)
🔽 منفی اثر ڈالنے والے سیکٹرز:
❌ فرٹیلائزر (-105 پوائنٹس)
❌ انشورنس (-6 پوائنٹس)
مستقبل کی توقعات:
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روپے کی قدر مستحکم رہی، سیاسی ماحول بہتر ہوا اور معیشتی پالیسیاں واضح رہیں، تو PSX مزید نئی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔
📊 کیا آپ کے خیال میں مارکیٹ مزید بڑھے گی یا کچھ دنوں میں منافع لینے کا رجحان نظر آئے گا؟
PSX میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت میں اضافہ، تجارتی سرگرمیاں بلند سطح پر
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں گزشتہ ہفتے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت کا رجحان برقرار رہا، جس کی مالیت $7.96 ملین رہی، جو پچھلے ہفتے کے $2.61 ملین کے مقابلے میں نمایاں زیادہ تھی۔
اہم نکات:
📉 سب سے زیادہ فروخت کن سیکٹرز میں ہوئی؟
✔ کمرشل بینکس: $2.9 ملین
✔ آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن (E&P): $2.3 ملین
📊 ٹریڈنگ کے اعداد و شمار:
✔ اوسط تجارتی حجم: 508 ملین شیئرز (51% اضافہ WoW)
✔ اوسط تجارتی قدر: $112 ملین (43% اضافہ)
JS گلوبل کی رپورٹ کے مطابق:
🔹 KSE-100 انڈیکس نے 2.5% اضافہ حاصل کیا اور 118,400 کی سطح پر بند ہوا۔
🔹 آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کا انتظار جاری رہا، جبکہ Resilience and Sustainability Facility (RSF) کے تحت اضافی مالی معاونت حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
🔹 حکومت بجلی کے نرخوں میں Rs8 فی کلوواٹ آور کمی پر غور کر رہی ہے، جو IPP معاہدوں میں نظرثانی کے باعث ممکن ہو سکتی ہے۔
🔹 پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھا گیا، لیکن پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں Rs10 کا اضافہ کر کے Rs70 فی لیٹر تک پہنچا دیا گیا۔
🔹 ٹی بلز نیلامی میں حکومت نے Rs392 بلین اکٹھا کیے، جو مقررہ Rs800 بلین کے ہدف سے کم تھا۔
آئندہ ہفتے کی توقعات:
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئی ایم ایف سے معاہدہ طے پاتا ہے اور حکومت توانائی اصلاحات میں پیش رفت کرتی ہے، تو مارکیٹ میں مزید بہتری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
🔹 کیا غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت کا سلسلہ جاری رہے گا یا نئے خریدار مارکیٹ میں داخل ہوں گے؟

