پاکستان میں زرعی ٹیکس خطے میں سب سے زیادہ، عملدرآمد میں مشکلات
کراچی: انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICMA) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، نئے زرعی انکم ٹیکس کے نفاذ میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
زرعی ٹیکس کی شرح اور اثرات
✔ یہ ٹیکس بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی شرائط کے تحت متعارف کروایا گیا، جس کی شرح 15% سے 45% کے درمیان ہے، جبکہ زیادہ آمدنی والے زمینداروں پر 10% سپر ٹیکس بھی عائد کیا گیا ہے۔
✔ اس پالیسی کے نتیجے میں، پاکستان کا زرعی ٹیکس بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔
عملدرآمد میں مشکلات
ICMA کی رپورٹ میں ٹیکس کے نفاذ میں درپیش کئی رکاوٹوں کو اجاگر کیا گیا، جن میں شامل ہیں:
🔹 پرانے اور غیر مستند زمینوں کے ریکارڈ
🔹 زرعی آمدنی میں اتار چڑھاؤ
🔹 کمزور ٹیکس کلیکشن کا نظام
🔹 سیاسی مزاحمت
چھوٹے کسانوں پر اثرات
✔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ چھوٹے کسانوں کو اس ٹیکس سے سب سے زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
✔ اس ٹیکس کے نتیجے میں زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ICMA کی تجاویز
✔ ICMA نے ٹیکس کا بتدریج نفاذ تجویز کیا ہے، جس میں سب سے پہلے بڑے زمینداروں پر ٹیکس عائد کیا جائے۔
✔ زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے اور ٹیکس کلیکشن کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
✔ ٹیکس کی ادائیگی کو آسان بنانے کے لیے مراعات دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
کیا آپ کے خیال میں یہ ٹیکس ملکی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگا یا کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کرے گا؟

