ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستانطورخم بارڈر پیدل آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا

طورخم بارڈر پیدل آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا
ط

طورخم بارڈر پیدل آمد و رفت کے لیے مکمل بحال

طورخم – ہفتے کے روز طورخم بارڈر کا امیگریشن سیکشن مکمل طور پر بحال کر دیا گیا، جس کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان پیدل آمد و رفت دوبارہ شروع ہو گئی۔

صرف ویزا اور پاسپورٹ رکھنے والوں کو اجازت

امیگریشن حکام کے مطابق، صرف وہی مسافر جو مستند پاسپورٹ اور ویزا رکھتے ہیں، افغانستان میں داخل ہو سکیں گے۔

امیگریشن نظام کی خرابی اور تاخیر

طورخم بارڈر کو جمعہ کے روز کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، لیکن امیگریشن سسٹم میں تکنیکی خرابی کے باعث تاخیر ہوئی۔

حکام کے مطابق، 21 فروری کو پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان مسلح جھڑپوں کے دوران افغان فوج کی گولیاں امیگریشن سسٹم کو نقصان پہنچانے کا سبب بنیں، جس کے باعث امیگریشن سروسز معطل ہو گئیں۔

مرحلہ وار بحالی اور جرگوں کا کردار

✔ 25 دن بعد، بدھ کے روز، سرحد کو جزوی طور پر کھولا گیا تھا، لیکن صرف تجارتی گاڑیوں اور طبی ہنگامی صورتحال کے لیے۔
✔ مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد، اب عام مسافروں کی آمد و رفت بھی بحال کر دی گئی ہے۔
✔ سرحد کی بحالی میں قبائلی عمائدین، مذہبی رہنماؤں اور تاجروں کے درمیان جرگوں نے اہم کردار ادا کیا۔

متنازعہ چیک پوسٹ پر افغان طالبان کی پسپائی

ذرائع کے مطابق، پاکستان نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ متنازعہ چیک پوسٹ پر کام بند کریں۔ بالآخر افغان طالبان نے اس مطالبے کو تسلیم کر لیا، جس کے بعد سرحد کو دوبارہ کھولا گیا۔

طورخم بارڈر کھلنے سے تجارتی اور سفری سرگرمیاں بحال

طورخم – پاکستان اور افغانستان کے حکام کے درمیان فلیگ میٹنگ کے بعد طورخم بارڈر کو دوبارہ کھول دیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم تجارتی راستہ ہے۔

روزانہ 10,000 مسافروں کی آمد و رفت

✔ طورخم بارڈر پاکستان اور افغانستان کے درمیان سب سے مصروف راستہ ہے، جہاں روزانہ تقریباً 10,000 افراد سرحد عبور کرتے ہیں۔
✔ پیدل آمد و رفت کی بحالی سے ان ہزاروں افراد کو سہولت ملے گی جو تجارت، طبی علاج اور اہل خانہ سے ملاقات کے لیے اس راستے پر انحصار کرتے ہیں۔

21 فروری کو سرحد کی بندش اور کشیدگی

✔ 21 فروری کو پاکستانی اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان سرحدی تعمیرات پر تنازع کے باعث طورخم بارڈر بند کر دیا گیا تھا۔
✔ اس مہینے کے آغاز میں پاکستانی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 8 افراد زخمی ہوئے، جن میں 6 فوجی بھی شامل تھے۔

سرحدی بندش کے اثرات اور افغان حکام کی اپیل

✔ افغان حکام کے مطابق، سرحد کی بندش کے دوران ہزاروں مسافر دونوں اطراف پھنس کر رہ گئے تھے، جس کی وجہ سے شدید رش پیدا ہوا۔
✔ افغان صوبہ ننگرہار کے اطلاعاتی محکمے کے سربراہ نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ کم از کم دو دن انتظار کریں، تاکہ رش میں کمی ہو سکے۔
✔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ آئندہ دو سے تین دن میں صورتحال معمول پر آ جائے گی۔

پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ سطحی مذاکرات

✔ طورخم سرحدی کشیدگی کے دوران پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق اور افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کے درمیان ملاقات بھی ہوئی۔
✔ ان مذاکرات کو دوطرفہ تعلقات اور سرحدی تنازعات کے حل کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین