جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیچین کا ‘اسرائیل’ سے شام اور لبنان سے انخلا کا مطالبہ: اقوام...

چین کا ‘اسرائیل’ سے شام اور لبنان سے انخلا کا مطالبہ: اقوام متحدہ میں چینی سفیر
چ

چین نے ‘اسرائیل’ پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر شام اور لبنان سے اپنی افواج کا انخلا کرے۔ اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کونگ نے جمعہ کے روز کہا کہ "شام میں سیاسی انتقال ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور اسرائیل کو وہاں سے فوری طور پر نکل جانا چاہیے۔”

چینی مندوب نے یمن اور بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ یمنی سرزمین پر فضائی حملے بند کرے۔ گزشتہ ہفتے سے امریکہ نے یمن پر متعدد حملے کیے ہیں، جس کے بعد یمنی مسلح افواج نے اسرائیلی حمایت یافتہ جہازوں کو نشانہ بنانے کی اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کیں، جو کہ غزہ کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے خلاف یمن کی حمایت کا حصہ ہے۔

27 نومبر 2024 کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت ‘اسرائیل’ کو جنوبی لبنان سے اپنی افواج واپس بلانے کا پابند کیا گیا تھا، تاہم، اسرائیل نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اب بھی جنوبی لبنان میں پانچ مقامات پر فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ معاہدے کے تحت اسرائیل کو 26 جنوری 2025 کی صبح تک مکمل انخلا مکمل کرنا تھا، تاہم، اسرائیل کی عدم تعمیل کے بعد امریکہ نے اس معاہدے کی مدت 18 فروری 2025 تک بڑھا دی۔

دسمبر میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ 1973 میں شام کے ساتھ طے پانے والا گولان ہائٹس سے متعلق معاہدہ اب مزید قابلِ عمل نہیں، کیونکہ صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شامی افواج وہاں سے پسپا ہو چکی ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے فوج کو حکم دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی بفر زون پر قبضہ کر لے، جو 1974 سے اسرائیل اور شامی افواج کے درمیان ایک حد بندی کا کام دے رہا تھا۔ گولان ہائٹس، جو اصل میں شام کا حصہ تھا، 1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا تھا۔

نیتن یاہو نے جنوبی شام کو مکمل طور پر غیر فوجی بنانے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ ‘اسرائیل’ وہاں کسی بھی نئی شامی حکومت کی موجودگی کو قبول نہیں کرے گا۔

2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد، اسرائیلی جارحیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور قابض افواج نے شامی سرحدوں کے اندر اپنی دراندازی کو بڑھا دیا ہے۔ ‘اسرائیل’ نے تقریباً 95 فیصد قنیطرہ صوبے اور مغربی درعا کے بیشتر دیہی علاقوں، بشمول یرموک بیسن پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی فوج نے کئی اسٹریٹجک مقامات پر فوجی اڈے قائم کر لیے ہیں، جن میں جبل الشیخ کے دامن میں موجود مقامات بھی شامل ہیں، جہاں سے اسرائیلی فوج کو درعا، قنیطرہ اور دمشق کے نواحی علاقوں پر براہ راست کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔

قنیطرہ اور تدمر میں اسرائیلی جارحیت

اسرائیلی قابض افواج نے حالیہ دنوں میں قنیطرہ کے دیہی علاقوں میں فوجی دراندازی کی ہے، جہاں اسرائیلی فوجی قافلے تل الاحمر الغربی سے الاشا گاؤں کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔

ادھر، شامی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے وسطی شام کے صوبہ حمص میں تدمر کے فوجی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملے میں ٹی-4 فوجی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ حملے میں تدمر کے صحرا میں تین فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

چند روز قبل، اسرائیلی فضائیہ نے درعا کے مغربی فوجی اڈوں پر متعدد حملے کیے، جن میں دو شہری جاں بحق اور 19 زخمی ہو گئے تھے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین