استنبول کے بااثر میئر اور صدر رجب طیب اردگان کے بڑے سیاسی حریف، اکرم امام اوغلو کو دھوکہ دہی اور دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ہزاروں مظاہرین نے استنبول کے اپوزیشن میئر کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا، اردگان کی اس وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ ترکی "اسٹریٹ دہشت گردی” کی اجازت نہیں دے گا۔ جمعہ کی رات ہونے والے یہ مظاہرے ترکی میں ایک دہائی کے سب سے بڑے عوامی مظاہروں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
ترکی کے اپوزیشن رہنما اوزگور اوزل کے مطابق، استنبول میں امام اوغلو کی گرفتاری کے خلاف 3 لاکھ سے زائد افراد نے مختلف مقامات پر مظاہرے کیے۔ اوزل نے کہا کہ سڑکوں اور پلوں پر رکاوٹوں کے باعث مظاہرین کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکا گیا، جس کے نتیجے میں احتجاج شہر بھر میں پھیل گیا۔
ملک بھر میں احتجاج کی شدت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس، پانی کی توپیں اور مرچوں کا اسپرے کیا۔ استنبول سٹی ہال کے باہر، پولیس نے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں برسائیں جبکہ ازمیر میں بھی پانی کی توپوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔
استنبول کی 56 سالہ رہائشی نجلہ نے کہا: "مجھے امام اوغلو کے خلاف الزامات پر یقین نہیں۔ اس جیسا ایماندار آدمی کوئی نہیں۔” احتجاج کا دائرہ استنبول سے ترکی کے 40 سے زائد شہروں تک پھیل گیا۔
چونکہ اوزل نے ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے، اردگان نے خبردار کیا کہ ترکی "سڑکوں کی دہشت گردی” کے سامنے نہیں جھکے گا۔ حکومت نے انقرہ اور ازمیر میں بھی مظاہروں پر پابندی عائد کر دی اور سڑکیں بند کر دی گئیں۔ پولیس نے استنبول اور انقرہ میں 88 مظاہرین کو گرفتار کیا جبکہ وزیر داخلہ علی یرلکایا کے مطابق 16 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
امام اوغلو کے خلاف فیصلے کے نتیجے میں ترکی کی کرنسی کو شدید دھچکا لگا، اور بی آئی ایس ٹی 100 اسٹاک ایکسچینج جمعہ کو آٹھ فیصد تک گر گیا۔
گرفتاری کے باوجود، سی ایچ پی پارٹی نے اتوار کو اپنا بنیادی انتخاب کرانے کا اعلان کیا، جس میں امام اوغلو کو 2028 کے انتخابات کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا جائے گا۔ پارٹی نے اعلان کیا کہ ہر کوئی ووٹ ڈال سکتا ہے، صرف پارٹی ممبران ہی نہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت امام اوغلو کی حمایت کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے انتخابات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ واشنگٹن کی گونل ٹول نے اے ایف پی کو بتایا: "اگر بڑی تعداد میں لوگ آ کر امام اوغلو کو ووٹ دیتے ہیں تو یہ انہیں داخلی سطح پر مزید قانونی حیثیت دے گا اور صورتحال کو اردگان کے ناپسندیدہ رخ پر لے جائے گا۔”

