مصر نے جمعہ کے روز اسرائیلی میڈیا کی ان رپورٹس کو سختی سے مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ قاہرہ غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے کے تحت 500,000 فلسطینیوں کو عارضی طور پر شمالی سینا کے ایک مخصوص شہر میں منتقل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
مصر کی اسٹیٹ انفارمیشن سروس (SIS) نے ایک بیان میں کہا، "مصر ان دعوؤں کو قطعی اور مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جو بعض میڈیا اداروں میں گردش کر رہے ہیں کہ وہ 500,000 غزہ کے باشندوں کو عارضی طور پر شمالی سینا میں منتقل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔”
ایجنسی نے ان الزامات کو "بے بنیاد اور مصر کے مستقل اور اصولی مؤقف کے سراسر منافی” قرار دیا، جو اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی جنگ کے ابتدائی دنوں سے واضح رہا ہے۔
قاہرہ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ وہ "فلسطینی بھائیوں کو کسی بھی جگہ، جبراً یا رضاکارانہ طور پر، غزہ سے باہر منتقل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، خصوصاً مصر میں۔”
مزید برآں، مصر نے کہا کہ "ایسا کوئی بھی اقدام فلسطینی مسئلے کی مکمل تباہی کے مترادف ہوگا اور مصر کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔”
بیان میں مصر کی حالیہ سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ قاہرہ نے عرب سربراہی اجلاس میں 4 مارچ کو ایک تعمیرِ نو منصوبہ پیش کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد "یہ یقینی بنانا تھا کہ ایک بھی فلسطینی غزہ سے باہر نہ جائے۔”
یہ وضاحت ان اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے جواب میں دی گئی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مصر 500,000 غزہ کے شہریوں کو شمالی سینا میں منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
دریں اثنا، اسرائیل نے منگل کی صبح غزہ پر فضائی حملوں کی ایک نئی مہم شروع کی، جس میں اب تک 700 سے زائد فلسطینی شہید اور 900 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ جنوری میں طے پانے والی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو توڑ دیا گیا ہے۔
اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی جارحیت کے نتیجے میں اب تک تقریباً 50,000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ 112,000 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
گزشتہ نومبر میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
اس کے علاوہ، اسرائیل کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں غزہ میں نسل کشی کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔

