آج اسرائیلی قابض افواج نے غزہ کے وسط میں واقع ترک فرینڈشپ اسپتال کو دھماکے سے اڑا دیا۔ یہ اسپتال غزہ میں واحد کینسر کے علاج کا مرکز تھا، جسے اسرائیل نے بغیر کسی ثبوت کے دعویٰ کرتے ہوئے "دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے” میں تبدیل ہونے کا الزام دیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں اسپتال کی عمارت کو ایک منظم دھماکے کے ذریعے تباہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو فضائی حملے سے مختلف معلوم ہوتا ہے۔
اسرائیل پہلے ہی غزہ کے طبی مراکز کو شدید نقصان پہنچا چکا ہے اور متعدد اسپتالوں کو تباہ کر چکا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ حملے اسرائیل کی نسل کشی کی پالیسی کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے وہ فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
قابض ریاست نے منگل کی صبح دوبارہ غزہ پر بمباری شروع کی، جس میں اب تک 700 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل نے غزہ پر پمفلٹس گرائے، جن میں تحریر تھا: "اگر غزہ کے تمام لوگ نیست و نابود ہو جائیں تو دنیا کے نقشے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ کوئی پرواہ نہیں کرے گا، کوئی تمہارے بارے میں نہیں پوچھے گا۔”

