سوڈانی فوج نے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے دارالحکومت خرطوم کے وسط میں واقع صدارتی محل پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ دو سال سے جاری تنازع میں ایک انتہائی علامتی اور اہم کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق، فوج طویل عرصے سے پسپائی کا شکار تھی، لیکن حالیہ دنوں میں اس نے مرکز میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) سے کئی علاقے واپس لے لیے ہیں۔
دوسری جانب، آر ایس ایف نے مغربی علاقوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے، جس سے جنگی محاذ مزید مضبوط ہو رہے ہیں اور ملک کے غیر رسمی تقسیم کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ آر ایس ایف اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں متوازی حکومت قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم عالمی سطح پر اس حکومت کو تسلیم کیے جانے کی توقع نہیں کی جا رہی۔
فوج کے بیان کے مطابق، اس نے خرطوم کے مرکزی علاقے میں موجود کئی وزارتوں اور دیگر اہم عمارتوں کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے، جبکہ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ آر ایس ایف کے جنگجو تقریباً 400 میٹر پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ آر ایس ایف نے جنگ کے آغاز کے فوری بعد اپریل 2023 میں خرطوم پر قبضہ کر لیا تھا، جس میں صدارتی محل بھی شامل تھا۔ تاہم اب فوج نے اس پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور اس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں فوجیوں کو محل میں جشن مناتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ محل کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی اور دیواریں گولیوں کے نشانات سے بھری ہوئی ہیں۔ آر ایس ایف کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔
خرطوم کے 55 سالہ شہری محمد ابراہیم نے کہا: "صدارتی محل کی آزادی میرے لیے جنگ کے آغاز سے اب تک کی سب سے اچھی خبر ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فوج جلد ہی خرطوم کے باقی علاقوں پر بھی قابو پالے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک دوبارہ محفوظ ہو اور ہم خوف و بھوک کے بغیر زندگی گزار سکیں۔”
اقوام متحدہ کے مطابق، یہ جنگ دنیا کے بدترین انسانی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر میں قحط اور بیماریاں پھیل رہی ہیں، اور 50 ملین کی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ دونوں فریقین پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں، جبکہ آر ایس ایف پر نسل کشی کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ تاہم، دونوں فریقین نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
آج خرطوم میں وقفے وقفے سے گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، اور فوج نے عندیہ دیا ہے کہ وہ آر ایس ایف کو گھیرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو اب بھی شہر کے جنوبی علاقوں میں قابض ہے۔ فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا: "ہم تمام محاذوں پر آگے بڑھ رہے ہیں اور مکمل فتح تک لڑائی جاری رکھیں گے، جب تک کہ ہمارے ملک کے چپے چپے کو اس ملیشیا اور اس کے حامیوں سے پاک نہ کر لیا جائے۔”
یہ جنگ دو سال قبل اس وقت شروع ہوئی تھی، جب ملک میں جمہوری حکومت کے قیام کے منصوبے پر تنازع کھڑا ہوا۔ فوج اور آر ایس ایف نے 2019 میں عمر البشیر کی حکومت کے خاتمے میں ایک ساتھ کردار ادا کیا تھا، لیکن بعد میں سویلین حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ان کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ عمر البشیر نے دارفور میں جنجاوید ملیشیا کو فروغ دیا تھا، جس کے نتیجے میں آر ایس ایف کے سربراہ محمد حمدان دگالو (حمیدتی) کو فوج کے لیے ایک طاقتور حریف بنا دیا گیا تھا۔ اب یہ تنازع سوڈان کو مکمل انتشار کی طرف دھکیل رہا ہے۔

