تحریر: رضوانہ نقوی
بچوں میں اسکرین کے بڑھتے ہوئے استعمال نے والدین کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ اکثر والدین جب مصروف ہوتے ہیں یا آرام کرنا چاہتے ہیں، تو وہ بچوں کو اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ دے دیتے ہیں تاکہ وہ مشغول رہیں۔ اگرچہ یہ وقتی طور پر آسان حل لگتا ہے، لیکن تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ کم عمری میں اسکرین کا بے تحاشا استعمال بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
کاسپرسکی (2024) کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 89 فیصد والدین اپنے بچوں کو دورانِ سفر یا آرام کے لیے گیجٹس فراہم کرتے ہیں، جبکہ 53 فیصد بچے 3 سے 7 سال کی عمر میں اپنا پہلا اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ حاصل کر لیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اسکرین کا زیادہ استعمال نیند کی خرابی، بینائی کے مسائل، موٹاپے، کمزور سماجی مہارتوں اور تعلیمی کارکردگی میں کمی جیسے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ نرگس (2024) کے مطابق، اسکرین سے خارج ہونے والی نیلی روشنی میلاٹونن (نیند کے ہارمون) کی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے نیند میں خلل پڑ سکتا ہے۔ مبینہ (2024) کا کہنا ہے کہ اسکرین کا مسلسل استعمال بچوں کی بینائی پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے اور انہیں سر درد کا سامنا ہو سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) (2024) کے مطابق، بچوں کی جسمانی سرگرمیوں میں کمی ان کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، جو موٹاپے اور دیگر جسمانی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ مزید برآں، امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس (اے اے پی) (2024) کی تحقیق بتاتی ہے کہ زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی توجہ کو کمزور کر سکتا ہے، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، نرگس (2024) نے نشاندہی کی ہے کہ زیادہ اسکرین استعمال کرنے والے بچے سماجی سرگرمیوں میں کم حصہ لیتے ہیں، جس سے ان کی بات چیت کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود کریں اور ان کے لیے متبادل تفریحی سرگرمیوں جیسے جسمانی کھیل اور کتابوں کی طرف راغب کریں۔ مبینہ (2024) کا کہنا ہے کہ والدین کو خود بھی اسکرین کے استعمال میں توازن رکھنا چاہیے تاکہ بچے مثبت مثال دیکھ سکیں۔ والدین کی نگرانی اور رہنمائی بچوں کو نامناسب مواد سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اسکرین کے استعمال کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، لیکن اس میں توازن رکھنا ضروری ہے۔ والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے مثبت اقدامات کریں اور انہیں ایسی سرگرمیوں میں مشغول کریں جو ان کی نشوونما میں مددگار ثابت ہوں۔ ایک متوازن اور صحت مند طرزِ زندگی ہی بچوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔

