یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے اندرونی اختلافات کو نمایاں کرتا ہے، جہاں ججز کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔
اہم نکات:
- عدالتی ٹربیونل میں تبدیلی پر اعتراض:
تین ججز نے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی جانب سے ٹربیونل کی تحلیل اور دوبارہ تشکیل کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ - ٹربیونل کے فیصلے:
- اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس اعظم خان کے تقرر کو کالعدم قرار دیا گیا۔
- کئی دیگر ججز کی تعیناتیوں کو بھی غیر آئینی قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا۔
- عدالتی حکم کے مطابق، اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈیپوٹیشن پر تعینات تمام ججز کو 6 ماہ کے اندر واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
- قائم مقام چیف جسٹس کے اختیارات پر سوال:
ججز کا کہنا ہے کہ قائم مقام چیف جسٹس کو ٹربیونل کے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں، اور اس طرح کے اقدامات غیر آئینی ہیں۔ - فیصلے پر عمل درآمد عارضی طور پر معطل:
فیصلے کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ججز نے 30 دن کے لیے اپنے حکم پر عمل درآمد معطل کر دیا تاکہ متاثرہ فریقین سپریم کورٹ سے رجوع کر سکیں۔
یہ تنازع عدلیہ میں شدید اندرونی اختلافات کو ظاہر کرتا ہے اور ممکنہ طور پر اعلیٰ عدالتی نظام پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
پس منظر اور تجزیہ:
- اختیارات کی کشمکش:
- قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی جانب سے ٹربیونل کی تحلیل اور اس کی ازسرنو تشکیل کو تین سینئر ججز نے چیلنج کیا۔
- ججز کا موقف ہے کہ ایک بار بننے والا عدالتی ٹربیونل کسی قانونی جواز کے بغیر تحلیل نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی چیف جسٹس کو یہ اختیار حاصل ہے۔
- ڈیپوٹیشن پر ججز کی تعیناتی:
- فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ججز کی تقرریوں کو غیر آئینی قرار دیا گیا۔
- عدالت نے 6 ماہ کے اندر تمام ایسے ججز کی واپسی کا حکم دیا، جو کسی اور عدلیہ یا ادارے سے لا کر اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعینات کیے گئے تھے۔
- عدلیہ میں اندرونی تقسیم:
- یہ اختلافات اس وقت مزید نمایاں ہو گئے جب ججز نے چیف جسٹس کے انتظامی اختیارات کو محدود کرنے پر زور دیا۔
- اس تنازعے نے پاکستان میں عدلیہ کی خودمختاری، تقرریوں میں شفافیت، اور عدالتی فیصلوں پر سیاسی و انتظامی اثر و رسوخ کے خدشات کو مزید ہوا دی۔
- آئندہ کے ممکنہ اثرات:
- اس فیصلے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں مزید تقسیم پیدا ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر سپریم کورٹ میں اپیل کے بعد بھی ججز کے درمیان اختلاف برقرار رہتا ہے۔
- عدلیہ کے داخلی معاملات پر غیر معمولی عوامی بحث چھڑ سکتی ہے، جس سے عدلیہ کی خودمختاری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
- یہ معاملہ ملک کے قانونی اور آئینی ڈھانچے کے لیے ایک اہم ٹیسٹ کیس بن سکتا ہے، جس میں یہ طے ہوگا کہ چیف جسٹس کے اختیارات کہاں تک محدود یا وسیع ہو سکتے ہیں۔
یہ تنازع نہ صرف عدلیہ کے اندرونی معاملات پر اثر ڈالے گا بلکہ مجموعی طور پر پاکستان کے عدالتی نظام کی ساکھ پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

