معروف پاکستانی تجزیہ کار، سید عظیم سبزواری
تعارف
یہ ہیں پال وان رائپر، ایک ریٹائرڈ امریکی مرین کور لیفٹیننٹ جنرل۔ وہ ویتنام جنگ اور 1991 کی عراق جنگ میں لڑے، جس کے لیے انہیں تمغے ملے۔ بعد ازاں، وہ ایک امریکی جنگی انسٹی ٹیوٹ میں پڑھانے لگے۔ تاہم، امریکی انہیں ان جنگوں کے بجائے ایک اور تاریخی واقعے کے باعث یاد رکھتے ہیں—ایک جنگی مشق جس میں انہوں نے دو دن میں 16 امریکی بحری بیڑے ڈبو کر 20,000 فوجی مرین ہلاک کیے اور امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے سے روک دیا۔
آپ یقیناً تعجب کا شکار ہوں گے کے یہ کیا ماجرا ہے؟
میلینیم چیلنج 2002
یہ واقعہ 2002 کا ہے، جب امریکہ افغانستان پر قبضہ کر چکا تھا اور اب اس کی نظریں ایران اور عراق پر تھیں۔ اس مقصد کے لیے، امریکہ نے جولائی 2002 میں اپنی تاریخ کی سب سے مہنگی جنگی مشق "میلینیم چیلنج 2002” کا آغاز کیا، جس پر 250 ملین ڈالر لاگت آئی۔ یہ آج تک کی سب سے مہنگی امریکی جنگی مشق سمجھی جاتی ہے اور خلیج فارس کے خطے میں انجام دی گئی۔
یہ مشق "زندہ فیلڈ مشقوں” اور "کمپیوٹر سمیولیشنز” پر مشتمل تھی، جس میں ہزاروں فوجی اہلکار، بحری جہاز، ہوائی جہاز، اور جدید ٹیکنالوجی شامل تھی۔ اس کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ امریکی فوج کسی کمزور دشمن کے خلاف کس حد تک کامیاب ہو سکتی ہے۔
جنرل پال وان رائپر کی حکمت عملی
اس مشق میں جنرل پال کو "ریڈ ٹیم” کا کمانڈر مقرر کیا گیا، جو دشمن فوج کی نمائندگی کر رہی تھی، جبکہ "بلیو ٹیم” جدید امریکی فوج تھی۔ وان رائپر غیر روایتی اور تخلیقی حکمت عملیوں کے لیے مشہور تھے، اور انہوں نے اس مشق میں بھی جدید ٹیکنالوجی کے بجائے سادہ لیکن مؤثر طریقے اپنائے۔
انہوں نے:
- موٹرسائیکل سواروں اور چھوٹی کشتیوں کا استعمال کیا۔
- مسجد کے مینار سے پیغامات نشر کیے۔
- میزائل حملوں کے ذریعے امریکی بحری بیڑے کو تباہ کیا۔
مشق کے دوسرے دن ہی، وہ امریکی حملے کو شکست سے دوچار کر دیتے ہیں، جس سے منتظمین حیران اور پریشان ہو جاتے ہیں۔
متنازعہ ردعمل اور استعفیٰ
امریکی کمانڈ نے جنرل پال پر پابندی عائد کر دی کہ وہ اپنی حکمت عملی دوبارہ استعمال نہ کریں۔ اس فیصلے پر انہوں نے احتجاج کیا اور مشق سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کا موقف تھا کہ یہ مشق "پہلے سے طے شدہ نتائج” پر مبنی ہے اور اس میں حقیقی جنگی چیلنجز کو شامل نہیں کیا گیا۔
جنرل پال کے جانے کے بعد، امریکی فوج نے ریڈ ٹیم پر مزید سخت پابندیاں عائد کر دیں تاکہ بلیو ٹیم کو کامیاب قرار دیا جا سکے، لیکن اس سے مشق کا اصل مقصد فوت ہو گیا۔
نتائج اور اثرات
پینٹاگون میں اس مشق کے بعد بحث چھڑ گئی کہ ایران کے خلاف بڑی زمینی، بحری اور فضائی جنگ جیتنا فی الحال ممکن نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایران کے بجائے عراق پر حملہ کیا جائے، چنانچہ 2003 میں امریکہ نے عراق پر قبضہ کر لیا۔
ایران نے اس کے بعد اپنی میزائل فورس اور زیر زمین بنکروں کی تیاری کو مزید وسعت دی، اور آج وہ اس میدان میں دنیا میں سرِفہرست ہے۔
یہ جنگی مشق امریکی فوجی حکمت عملی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی اور آج بھی فوجی تعلیم اور تربیت میں ایک سبق کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔

