ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستانافغان وزیر خارجہ کا افغان مہاجرین کی بتدریج وطن واپسی پر زور

افغان وزیر خارجہ کا افغان مہاجرین کی بتدریج وطن واپسی پر زور
ا

افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان سمیت دیگر ممالک سے افغان مہاجرین کی بتدریج واپسی پر زور دیا ہےان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سیکیورٹی کی کوئی بڑی مشکل درپیش نہیں، تاہم کچھ ایسے مسائل موجود ہیں جن کی وجہ سے تمام پناہ گزینوں کی ایک ساتھ واپسی کے لیے مناسب انتظامات کرنا مشکل ہوگا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق، رواں ماہ کے اوائل میں وفاقی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ افغان سٹیزن کارڈ (اے سی سی) رکھنے والوں سمیت تمام غیر قانونی غیر ملکیوں کو 31 مارچ تک ملک سے نکال دیا جائے گا۔اس سلسلے میں اے سی سی ہولڈرز کی تفصیلات اکٹھی کی جائیں گی، جبکہ کرائے دار، مزدور اور کاروباری افغان باشندوں کی اسکریننگ بھی کی جائے گیدفتر خارجہ نے تصدیق کی کہ 31 مارچ کی ڈیڈلائن کے بعد اے سی سی کارڈ ہولڈر افغانوں کو پاکستان سے نکالا جائے گا۔

اے سی سی کارڈ کیا ہے؟

یہ ایک شناختی دستاویز ہے جو نادرا کی جانب سے رجسٹرڈ افغان شہریوں کو جاری کی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کی انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) کے مطابق، اے سی سی افغانوں کو پاکستان میں عارضی قانونی حیثیت فراہم کرتا ہے۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں 8 لاکھ سے زائد افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز موجود ہیں۔

افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا مؤقف

گزشتہ روز کابل میں سفارتکاروں کے اعزاز میں دی گئی افطار پارٹی کے دوران، افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا:

  • گزشتہ 4 دہائیوں میں لاکھوں افغان شہریوں نے پاکستان، ایران اور دیگر ممالک میں ہجرت کی ہے۔
  • ہمیں امید ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی باعزت، تدریجی اور پرامن طریقے سے ہوگی، جیسا کہ ماضی میں ان کی مہمان نوازی کی گئی۔
  • افغانستان میں سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں، تاہم کچھ انتظامی مشکلات کے باعث تمام مہاجرین کی ایک ساتھ واپسی ممکن نہیں۔

پاکستان کے ناظم الامور کی موجودگی

اس تقریب میں پاکستان کے ناظم الامور عبید الرحمٰن نظامانی بھی موجود تھے۔

سفارتکاروں سے اپیل

افغان وزیر خارجہ نے سفارتکاروں سے گفتگو کے دوران امید ظاہر کی کہ:

  • افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل تدریجی ہوگا۔
  • اس سلسلے میں بین الاقوامی برادری افغانستان کے ساتھ تعاون کرے گی۔

افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے بین الاقوامی تنظیموں سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک صبر و تحمل سے کام لیں اور پناہ گزینوں کے ساتھ اچھے سلوک کو یقینی بنائیں۔

طورخم بارڈر کی دوبارہ بحالی

اپنے خطاب کے دوران، انہوں نے طورخم بارڈر کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ:

  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔
  • طورخم بارڈر 3 ہفتے سے بند تھا، تاہم گزشتہ روز پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کے بعد اسے دوبارہ کھول دیا گیا۔

مذاکرات کی ضرورت پر زور

انہوں نے مزید کہا کہ:

  • دونوں ممالک کو اپنے اختلافات بات چیت اور افہام و تفہیم سے حل کرنے چاہئیں۔
  • ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جائے جو عام عوام کے لیے مشکلات کا سبب بنے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین