سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں 10 خارجی دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں کیپٹن حسنین اختر شہید ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، 20 مارچ کو سیکیورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان میں آپریشن کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے پر مؤثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں تمام 10 دہشت گرد مارے گئے۔تاہم، شدید فائرنگ کے تبادلے میں جہلم سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ کیپٹن حسنین اختر بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کیپٹن حسنین اختر ایک بہادر افسر تھے اور گزشتہ آپریشنز میں ان کی جرأت مندانہ کارروائیوں کی شہرت تھی۔مزید برآں، آپریشن کے دوران مارے گئے خارجی دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ یہ دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث تھے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، علاقے میں موجود کسی بھی باقی ماندہ خارجی کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، اور ہمارے بہادر جوانوں اور افسران کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
دریں اثنا، وزیرِاعظم شہباز شریف نے کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کے افسران اور اہلکاروں کی تعریف کی اور شہید کیپٹن حسنین اختر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔وزیرِاعظم نے شہید کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔

