جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیامریکا کا سعودی عرب کو جدید ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری، حوثی...

امریکا کا سعودی عرب کو جدید ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری، حوثی تنازع کے دوران بڑا فیصلہ
ا

واشنگٹن، 20 مارچ – امریکی محکمہ خارجہ نے پہلی بار سعودی عرب کو جدید پریسجن کِل ویپن سسٹمز (APKWS) فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کی تخمینی لاگت 10 کروڑ ڈالر ہے، پینٹاگون نے جمعرات کو اس کی تصدیق کی۔

یہ ممکنہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے یمن میں حوثی اہداف پر حملوں کی نئی لہر شروع کر رکھی ہے۔ یہ حملے گزشتہ ہفتے بروز ہفتہ شروع ہوئے، جن میں کم از کم 31 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اب تک کا سب سے بڑا آپریشن ہے جو جنوری میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ وائٹ ہاؤس آنے کے بعد کیا گیا۔

یمن کا تنازع اور سعودی عرب کا کردار

یمن میں خانہ جنگی کا آغاز 2014 کے آخر میں ہوا، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ ایران کے حمایت یافتہ ان حوثیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے پریشان ہو کر، سعودی عرب نے مارچ 2015 میں ایک مغربی حمایت یافتہ اتحاد کی قیادت کی تاکہ یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کو مستحکم کیا جا سکے۔

2022 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد جنگ کی شدت میں کمی آئی، مگر اس تنازعے کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد ہلاک، یمن کی معیشت تباہ، اور لاکھوں افراد بھوک و افلاس کا شکار ہو چکے ہیں۔

فروخت کی منظوری اور دفاعی اہمیت

APKWS ایک لیزر گائیڈڈ راکٹ ہے، جو فضائی اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی فی یونٹ قیمت تقریباً 22,000 ڈالر ہے، جو کم لاگت والے مسلح ڈرونز جیسے کہ حوثیوں کے استعمال کردہ ڈرونز کو نشانہ بنانے کے لیے ایک مؤثر اور کم خرچ ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ حوثیوں کے یہی ڈرونز حالیہ مہینوں میں بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کا باعث بنے ہیں۔

پینٹاگون کے ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے جمعرات کو امریکی کانگریس کو 2,000 APKWS، متعلقہ ساز و سامان، اور تربیت کی ممکنہ فروخت سے متعلق آگاہ کر دیا۔

معاہدے کی موجودہ حیثیت

محکمہ خارجہ کی منظوری کے باوجود، یہ اطلاع کسی حتمی معاہدے یا مذاکرات کی تکمیل کا اشارہ نہیں دیتی۔

پینٹاگون کے مطابق، اس فروخت کا مرکزی ٹھیکیدار "BAE Systems” ہوگا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین