جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیشمالی قبرص میں اسکولوں میں حجاب کے اصول میں تبدیلی پر شدید...

شمالی قبرص میں اسکولوں میں حجاب کے اصول میں تبدیلی پر شدید ردعمل
ش

ترک قبرصی انتظامیہ کے سیکنڈری اسکولوں میں حجاب کی اجازت دینے کے فیصلے نے شدید بحث چھیڑ دی ہے، جسے اساتذہ کی یونینز اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے مذہبی قدامت پسندی کے فروغ کی ایک کڑی قرار دیا ہے۔
یہ اقدام خاص طور پر متنازعہ ہے کیونکہ ترک جمہوریہ شمالی قبرص روایتی طور پر زیادہ سیکولر اور سماجی طور پر آزاد خیال رہا ہے، جب کہ ترکی میں گزشتہ دہائیوں میں سیاست پر مذہبی اثر و رسوخ بڑھا ہے۔
نیا ضابطہ، جو پیر کے روز نافذ ہوا، طلبہ کو مذہبی وجوہات کی بنا پر سادہ، ایک ہی رنگ کا اور اسکول یونیفارم سے ہم آہنگ حجاب پہننے کی اجازت دیتا ہے۔

پسِ منظر اور حکومتی مؤقف

اخبار حریت کے مطابق، اس ترمیم کا آغاز اس وقت ہوا جب نکوسیا کے ارسین کوچوک سیکنڈری اسکول کی ایک طالبہ کو گزشتہ ہفتے حجاب پہننے پر کلاس میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔ اس کے خاندان کی شکایت کے بعد وزارتِ تعلیم نے معاملہ وزراء کی کونسل میں پیش کیا، جس نے اس نئے ضابطے کی منظوری دی۔
وزیرِ تعلیم ناظم چاوش اولو نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ترک اخبار صباح کو بتایا:
"ہمارے ہائی اسکولوں اور مڈل اسکولوں میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اس فیصلے کے ساتھ، ہم نے مڈل اسکولوں میں حجاب پر عائد پابندی کو ختم کر دیا ہے۔”

تنقید اور مخالفت

سابق ترک قبرصی رہنما مصطفیٰ آکنجی نے اس پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا:
"تعلیم میں اصل توجہ بچوں کے ذہنوں کے اندرونی پہلوؤں پر ہونی چاہیے… وہ اپنے ظاہری خد و خال سے متعلق فیصلے اس عمر میں پہنچ کر خود کر سکتے ہیں جب وہ اپنی آزاد مرضی سے عمل کرنے کے قابل ہو جائیں۔”

حزبِ اختلاف کی ریپبلکن ترک پارٹی (CTP) کے رہنما توفان ارہُرمان نے حکمراں اتحاد پر سماجی تقسیم کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے خبردار کیا:
"آپ اس حقیقت سے لاعلم نہیں ہو سکتے کہ جب آپ ایسی تبدیلی کرتے ہیں تو معاشرے میں ’سیکولر تعلیم‘ اور ’آزادیوں‘ کے حوالے سے بحث، بلکہ تصادم پیدا ہوگا۔”

اساتذہ کی یونینز نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا، جب کہ قبرصی ترک سیکنڈری ایجوکیشن ٹیچرز یونین (KTOEÖS) کی رہنما سلمیٰ ایئلم نے اس اقدام کو "سماجی انجینئرنگ” کی کوشش قرار دیا۔

حمایت اور وسیع تر بحث

جہاں ناقدین اس پالیسی کو انقرہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت سمجھ رہے ہیں، وہیں حامیوں کا مؤقف ہے کہ قبرص کی جمہوریہ میں بھی ایسے قوانین موجود ہیں۔ وزیرِ ٹرانسپورٹ ارہان اریکلی نے اپوزیشن کے مذہبی آزادی کے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر مستقبل میں دونوں حصوں کا اتحاد ہوتا ہے تو یہ مسئلہ کیسے حل ہوگا؟

مقبول مضامین

مقبول مضامین