غزہ میں قیدی بنائے گئے اسرائیلیوں کے اہل خانہ نے آج اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کی جانب سے یرغمالیوں کے مستقبل پر ہونے والا طے شدہ اجلاس ملتوی کرنے کے فیصلے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔
"یرغمالیوں کے اہل خانہ کے فورم” نے ایک بیان میں کہا، "اہل خانہ نے ہفتے کے آغاز میں، اور گزشتہ کئی ماہ سے، وزیر اعظم اور کابینہ کے ساتھ فوری اجلاس کا مطالبہ کیا تھا۔” تاہم، ان کے مطابق، "نہ کوئی جواب دیا گیا اور نہ ہی کوئی وضاحت”۔ بیان میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی کابینہ پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اہل خانہ کو نظرانداز کر رہے ہیں اور اندھا دھند بمباری دوبارہ شروع کر کے قیدیوں کی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
آج شام سیکیورٹی کابینہ کا اجلاس ہونا تھا، جس میں غزہ میں قیدیوں کی صورتحال پر غور کیا جانا تھا، لیکن یہ اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ اس کی بجائے، اسرائیلی داخلی سیکیورٹی ایجنسی "شین بیت” کے سربراہ رونین بار کو برطرف کرنے پر ووٹنگ کا فیصلہ کیا گیا۔
نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق، وزیر اعظم نے "اعتماد کے فقدان” کو بنیاد بنا کر رونین بار کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر آج رات ووٹنگ ہو گی۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق، یرغمالیوں کے معاملے پر کابینہ کا اجلاس اب ہفتے کے روز ہو گا۔

