اسرائیلی اخبار ہارٹز نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی ناکامی کا ذمہ دار اسرائیل ہے، نہ کہ حماس۔ اخبار کے مطابق، اسرائیل جنگ بندی کے نفاذ اور یرغمالیوں کی واپسی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
منگل کے روز سے اسرائیلی قابض فوج نے غزہ پر دوبارہ فضائی حملے شروع کر دیے، جن میں 400 سے زائد فلسطینی شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ یہ حملے اس جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی خلاف ورزی ہیں جو جنوری میں طے پایا تھا۔ اسرائیلی حکومت کا دعویٰ ہے کہ حملے حماس کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی سے انکار کی وجہ سے کیے گئے، لیکن ہارٹز نے ان الزامات کو "جھوٹ” قرار دیا اور کہا کہ حقیقت میں یہ اسرائیل ہی تھا جس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
اخبار کے مطابق، 16 ویں روز فریقین کو مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرنا تھا، جس کے تحت باقی تمام یرغمالیوں کی رہائی ہونی تھی، لیکن اسرائیل نے انکار کر دیا۔ مزید برآں، اسرائیل نے رفح کے قریب "فلاڈیلفیا کوریڈور” سے اپنی افواج واپس بلانے کے وعدے کی بھی خلاف ورزی کی۔ اسرائیلی حکومت نے غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل روک دی، سرحدی راستے بند کر دیے اور محدود مقدار میں فراہم کی جانے والی بجلی بھی بند کر دی، حالانکہ معاہدے کے مطابق امداد جاری رہنی چاہیے تھی جب تک مذاکرات کا دوسرا مرحلہ مکمل نہ ہو جاتا۔
پہلے مرحلے کا اختتام مارچ کے آغاز میں ہوا، لیکن نیتن یاہو نے دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں داخل ہونے سے انکار کر دیا اور بجائے اس کے، پہلے مرحلے کو طول دینے کی کوشش کی۔ حماس نے اس شرط کو مسترد کر دیا اور اصرار کیا کہ اسرائیل معاہدے پر عمل کرے، غزہ سے مکمل فوجی انخلا کرے اور جنگ فوری طور پر بند کرے۔
ہارٹز نے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی تجاویز پر حماس کے انکار کے اسرائیلی دعوے کو بھی جھوٹ قرار دیا۔ اخبار کے مطابق، "حماس کو وٹکوف کی تمام تجاویز اسرائیل کے معاہدے سے انحراف کے نتیجے میں ملیں، اس لیے ان کی مخالفت کو جنگ دوبارہ شروع کرنے کا جواز بنانا محض دھوکہ دہی ہے”۔
اسرائیلی حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ غزہ پر نئے حملے یرغمالیوں (زندہ یا مردہ) کی بازیابی کے لیے کیے جا رہے ہیں، لیکن ہارٹز نے اس دعوے کو "ایک اور جھوٹ” قرار دیا۔ اخبار نے لکھا کہ "فوجی دباؤ یرغمالیوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال رہا ہے، اسرائیلی فوجیوں اور غزہ کے شہریوں کی جانیں بھی ضائع ہو رہی ہیں، جبکہ پہلے ہی تباہ حال علاقے کو مزید ملبے میں بدلا جا رہا ہے”۔
اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں 50,000 سے زائد فلسطینی شہید اور 112,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

