جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیامریکہ: پینٹاگون کی جانب سے اقلیتوں اور خواتین کی خدمات کے وسیع...

امریکہ: پینٹاگون کی جانب سے اقلیتوں اور خواتین کی خدمات کے وسیع پیمانے پر آن لائن مٹاؤ کی کارروائی
ا

امریکہ: پینٹاگون کی جانب سے اقلیتوں اور خواتین کی تاریخی خدمات کا آن لائن مٹاؤ

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنی ویب سائٹ سے ہزاروں تصاویر اور مضامین حذف کر دیے ہیں، جن میں اقلیتوں اور خواتین کے امریکی فوج میں خدمات کو اجاگر کیا گیا تھا۔یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی "Diversity, Equity, and Inclusion (DEI)” کے خلاف جنگ کے تحت کیا گیا، جس کے بعد کئی ویب صفحات پر "404 – Page Not Found” کے پیغامات دکھائی دینے لگے ہیں۔

"تاریخی مواد غائب، اقلیتوں کی خدمات مٹانے کی کوشش؟”

جب محکمہ دفاع کی ویب سائٹ پر سیاہ فام امریکیوں کی فوجی خدمات سے متعلق مواد تلاش کیا جاتا ہے تو 1,126 نتائج تو ملتے ہیں، مگر زیادہ تر صفحات ڈیلیٹ کر دیے گئے ہیں اور ان کی جگہ "Page Not Found” کا پیغام آ رہا ہے۔مثال کے طور پر، "دلیر افریقی-امریکی فوجیوں نے رکاوٹیں توڑیں” کے عنوان سے موجود مضمون اب غائب ہو چکا ہےاسی طرح، "ٹسکیگی ایئرمین” کے لیے بنایا گیا ایک ملٹی میڈیا خراج تحسین بھی حذف کر دیا گیا ہے۔
یہ وہی یونٹ تھا جو امریکی فوج میں پہلی سیاہ فام ہوابازی یونٹ کے طور پر تاریخ کا حصہ بنا۔

"حقوقِ انسانی کارکنوں اور تاریخ دانوں کی مذمت”

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی فوج کی تاریخ سے اقلیتوں اور خواتین کے کردار کو مٹانے کی ایک کوشش ہے۔ایک سماجی کارکن نے کہا:
"یہ ایک شرمناک عمل ہے۔ محکمہ دفاع کی تاریخ میں سیاہ فام، لاطینی، ایشیائی، اور مقامی امریکیوں کا کردار انتہائی اہم رہا ہے، مگر اب ان کے کارنامے جان بوجھ کر چھپائے جا رہے ہیں۔”

"پینٹاگون کا مؤقف اور عوامی ردِ عمل”

محکمہ دفاع کا دعویٰ ہے کہ یہ "ویب سائٹس کی تنظیمِ نو” کا حصہ ہے، مگر ناقدین اس وضاحت کو ناکافی قرار دے رہے ہیں۔خواتین اور اقلیتی فوجیوں کے اہلِ خانہ اور حقوقِ انسانی کے ادارے مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ مواد فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ تاریخ کو مسخ ہونے سے بچایا جا سکے

"تاریخ کو مٹانے کی کوشش: امریکی فوج میں اقلیتوں اور خواتین کے کردار پر حملہ”

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر تھامس اے گوگلیلمو نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا:
"امریکی فوج کی تاریخ، سیاہ فام تاریخ کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ افریقی-امریکی ہمیشہ سے امریکی مسلح افواج کا ایک لازمی حصہ رہے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ "سیاہ فام امریکیوں کو ہمیشہ دو جنگیں لڑنی پڑی ہیں— ایک ملک کے دفاع میں، اور دوسری اپنے حقوق، وسائل، اور عزت کے لیے۔”

"ریڈ انڈین فوجیوں کی خدمات بھی نظر انداز”

ریڈ انڈین (Native American) فوجیوں کی تاریخ کو تلاش کرنے پر 440 نتائج تو سامنے آتے ہیں، مگر بیشتر صفحات حذف کر دیے گئے ہیں۔مثلاً، "کایووا قبائل کے فوجی” پر مبنی ویب صفحہ غائب کر دیا گیا ہے، اسی طرح سابق نائب سیکرٹری آف ڈیفنس کیتھلین ہِکس کی جانب سے ریڈ انڈین فوجیوں کی خدمات کو سراہنے کی تقریب کا ریکارڈ بھی ختم کر دیا گیا ہے۔

"خواتین کی جدوجہد پر بھی قدغن”

فوج میں خواتین کی خدمات پر مبنی 1,540 صفحات میں سے بھی بیشتر غائب ہو چکے ہیں، جن میں وہ مضامین شامل ہیں جو خواتین کی جدوجہد اور شاندار کارناموں کو اجاگر کرتے تھے۔

مثلاً:

  • خواتین کے فوج میں لازمی کردار پر ایک مضمون حذف کر دیا گیا ہے۔
  • "اسکائی ڈائیونگ ٹیم” میں خواتین کی شاندار کارکردگی پر مبنی آرٹیکل مٹا دیا گیا ہے۔

"دیگر اقلیتوں اور LGBTQ کمیونٹی کے خلاف بھی اقدام”

  • ایشیائی امریکیوں اور لاطینی فوجیوں کی خدمات پر مبنی کئی ویب صفحات غائب کر دیے گئے ہیں۔
  • LGBTQ کمیونٹی کے حقوق اور ان کے فوج میں کردار پر مبنی ویب صفحات حذف کر دیے گئے ہیں۔

"تاریخ کا خاتمہ یا نسلی امتیاز؟”

تاریخ دان اور سماجی کارکنان اس اقدام کو "نسلی امتیاز پر مبنی ڈیلیشن” قرار دے رہے ہیں، اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ تمام حذف شدہ مواد فوری طور پر بحال کیا جائے۔یہ فیصلہ امریکی فوج میں نسلی اور ثقافتی تنوع کو کمزور کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔مسلمان اور عرب امریکی فوجی اہلکار پہلے ہی ویب سائٹس پر کم نمایاں تھے، اور اب رمضان افطار ڈنر جیسے چند صفحات کے علاوہ ان کی کوئی پروفائلز موجود نہیں ہیں۔

"تمغہِ شجاعت کی بے قدری”

پینٹاگون پر حالیہ دنوں میں افریقی-امریکی اور جاپانی-امریکی فوجیوں کے اعزازات کو ہٹانے کے الزامات لگے، جس کے بعد شدید عوامی ردعمل کے بعد چند صفحات بحال کیے گئے۔میجر جنرل چارلس کیلون راجرز کو 1970 میں ویتنام جنگ کے دوران بہادری پر ‘میڈل آف آنر’ دیا گیا تھا۔

  • پینٹاگون نے گزشتہ ہفتے "medal” کو "Deimedal” سے بدل دیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ انہیں یہ اعزاز صرف DEI (Diversity, Equity, Inclusion) پالیسی کے تحت ملا تھا، نہ کہ ان کی شجاعت کی بنا پر۔

"تنوع ہماری طاقت نہیں” – پینٹاگون کا مؤقف

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا:
❝ جو لوگ کہتے ہیں کہ ‘تنوع ہماری طاقت ہے’، وہ غلط ہیں۔ ہماری طاقت ہماری مشترکہ یکجہتی اور مقصد میں ہے۔❞انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے افغانستان میں ایک متنوع جنگی پلاٹون کی قیادت کی، مگر فوج کی اصل طاقت مشترکہ مقصد ہے، نہ کہ تنوع۔

"DEI کے خاتمے کا صدارتی حکم”

20 جنوری کو صدر ٹرمپ نے "انتہا پسند اور فضول سرکاری DEI پروگراموں کے خاتمے” کے عنوان سے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا، جس میں:
✅ تمام حکومتی اداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ DEI سے متعلق تمام پالیسیوں، پروگراموں اور سرگرمیوں کو ختم کریں۔
✅ محکمہ دفاع کو حکم دیا گیا کہ وہ 5 مارچ تک تمام ویب سائٹس سے DEI سے متعلق تصاویر، مضامین، ویڈیوز اور دیگر مواد ہٹا دے۔

"ثقافتی مہینے منانے پر بھی پابندی”

امریکی فوج میں مندرجہ ذیل ثقافتی مہینوں کی تقریبات پر پابندی لگا دی گئی:
❌ بلیک ہسٹری منتھ
❌ ویمن ہسٹری منتھ
❌ ایشیائی-امریکی اور پیسفک آئی لینڈر ہسٹری منتھ
❌ LGBTQ پرائڈ منتھ
❌ ہسپانوی ورثہ مہینہ
❌ معذوری سے متعلق شعور اجاگر کرنے کا مہینہ
❌ ریڈ انڈین ورثہ مہینہ

اب فوجی اہلکار صرف ڈیوٹی کے اوقات سے باہر، غیر سرکاری طور پر ان تقریبات میں شرکت کر سکتے ہیں۔

"امریکی تاریخ کو مٹانے کی کوشش”

تاریخ دان تھامس گوگلیلمو نے خبردار کیا:
❝ اگر محکمہ دفاع اس تاریخ کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ **امریکی فوج کی سب سے اہم اور متاثر کن کہانیوں کو بھی مٹا دے گا۔❞

مقبول مضامین

مقبول مضامین