جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیبرطانیہ: ماں، بہن اور بھائی کے قاتل نوجوان کو 49 سال قید

برطانیہ: ماں، بہن اور بھائی کے قاتل نوجوان کو 49 سال قید
ب

لوٹن: تین اہلخانہ کے قتل اور اسکول پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے نوجوان کو 49 سال قید

لندن کے شمالی علاقے لوٹن میں ایک نوجوان کو اپنی ماں، بہن اور بھائی کے قتل کے بعد اسکول پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے جرم میں 49 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ نکولس پراسپر نے اپنے خاندان کے افراد کو قتل کرنے کے بعد پرائمری اسکول پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا، جہاں سے انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔پولیس کے مطابق ملزم کو حملے کی کوشش سے قبل ہی گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش کے دوران انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کا ارادہ اسکول میں درجنوں طلبہ اور دو اساتذہ کو قتل کرنے کا تھا۔

جج نے فیصلے میں کہا کہ ملزم کے جرائم انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں، اور معاشرے کے لیے مستقل خطرہ ہونے کے سبب انہیں کم از کم 49 سال قید کی سزا دی جا رہی ہے۔جج نے کہا کہ آپ نے واضح طور پر 20 سالہ امریکی شہری ایڈم لنزا کی تقلید کرنے کی کوشش کی جس نے 2012 میں نیوٹن میں واقع سینڈی ہک ایلیمنٹری اسکول میں 20 بچوں سمیت 26 افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا تھا۔

جج نے ملزم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’آپ نے 34 لوگوں کو مارنے کا ہدف رکھا تھا اور یہ تعداد 2007 میں امریکی اسکول ورجینیا ٹیک میں ہونے والی ہلاکتوں سے زیادہ ہے‘۔

ملزم نے لوٹن کے سینٹ جوزف کیتھولک پرائمری اسکول کے کلاس رومز کی تصویریں کھینچی تھیں اور اس کے ساتھ ایک نوٹ لکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ ’سب کو مار ڈالو‘۔

جج نے مزید کہا کہ آپ انتہائی خطرناک ہیں اور ہوسکتا ہے کہ آپ کو کبھی رہا نہ کیا جائے جب کہ ملزم کی انٹرنیٹ پر سرگرمیوں سے پتہ چلتا ہے کہ اسے بدنام قاتلوں، دنیا بھر کے اسکولوں میں ہونے والے فائرنگ کے واقعات سے دلچسپی ہے۔ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ امریکہ میں ہونے والے سینڈی ہُک اسکول فائرنگ اور ورجینیا ٹیک قتل عام جیسے واقعات سے زیادہ ہولناک حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ تاہم، جب وہ اپنی والدہ کو قتل کرنے جا رہا تھا، تو وہ اچانک جاگ گئیں اور مزاحمت کرنے لگیں، جس کی وجہ سے شور شرابہ ہوا اور پڑوسیوں نے پولیس کو اطلاع دے دی۔عدالت نے ملزم کو 49 سال قید کی سزا سنائی، جج نے کہا کہ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور معاشرے کے لیے مستقل خطرہ بننے والے مجرم کو سخت سزا دینا ضروری ہے۔جج نے دورانِ سماعت کہا کہ ملزم نے واضح طور پر 20 سالہ امریکی شہری ایڈم لنزا کی تقلید کرنے کی کوشش کی، جس نے 2012 میں سینڈی ہُک ایلیمنٹری اسکول میں 20 بچوں سمیت 26 افراد کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔جج نے دورانِ سماعت کہا کہ ملزم نے واضح طور پر 20 سالہ امریکی شہری ایڈم لنزا کی تقلید کرنے کی کوشش کی، جس نے 2012 میں سینڈی ہُک ایلیمنٹری اسکول میں 20 بچوں سمیت 26 افراد کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔عدالتی شواہد کے مطابق، ملزم نے لوٹن کے سینٹ جوزف کیتھولک پرائمری اسکول کے کلاس رومز کی تصاویر لی تھیں اور ان کے ساتھ ایک نوٹ لکھا تھا، جس پر درج تھا: "سب کو مار ڈالو”جج نے فیصلہ سناتے ہوئے مزید کہا کہ "آپ انتہائی خطرناک شخص ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ آپ کو کبھی رہا نہ کیا جائے۔” تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم انٹرنیٹ پر دنیا بھر کے اسکول فائرنگ کے واقعات اور بدنام قاتلوں میں غیرمعمولی دلچسپی رکھتا تھا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین