امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے آج اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے غزہ پر بمباری دوبارہ شروع کرنے کی شدید مذمت کی۔
سینڈرز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا:
"نیتن یاہو نے دو ہفتوں سے غزہ میں خوراک، پانی اور ایندھن داخل نہیں ہونے دیا۔ اب اس نے بمباری دوبارہ شروع کر دی ہے، سینکڑوں افراد کو قتل کر دیا ہے اور جنگ بندی کو توڑ دیا ہے، جس نے غزہ کو دوبارہ زندگی پانے کا موقع دیا تھا۔”
انہوں نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا:
"اسرائیل کو مزید فوجی امداد نہیں دی جانی چاہیے۔”
واشنگٹن پر اسرائیلی جنگی جرائم کی حمایت کا الزام
امریکہ کو طویل عرصے سے غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کی حمایت پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیلی قابض فوج کے تازہ فضائی حملوں میں 404 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں زیادہ تر عام شہری، خواتین اور بچے شامل تھے۔ یہ حملے 19 جنوری کو نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی ایک اور سنگین خلاف ورزی ہیں۔
اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک 48,500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ 1,12,000 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یواو گالانٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
اس کے علاوہ اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں نسل کشی کے مقدمے کا سامنا بھی ہے، جو غزہ کے خلاف اس کی وحشیانہ جنگ کے تناظر میں دائر کیا گیا ہے۔

