مصر کی جامعہ الازہر نے منگل کے روز غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں "سیاہ دہشت گردی” قرار دیا اور عالمی طاقتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ تل ابیب کو فلسطینیوں کے قتل کی اجازت دے رہی ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے امریکہ کے مکمل تعاون سے فجر کے وقت غزہ میں شدید بمباری کی، جس کے نتیجے میں 400 سے زائد افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے، حالانکہ فریقین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ موجود تھا۔
قاہرہ میں قائم اس ادارے نے "غزہ میں معصوم شہریوں پر صہیونی ریاست کے بزدلانہ دہشت گردانہ حملے” کی مذمت کی، جو اس وقت اپنے خیموں میں سو رہے تھے۔ بیان میں اس حملے کو "اسرائیل کی عہد شکنی اور دھوکہ دہی کی واضح مثال” قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے وطن سے جبری بے دخل کرنا ہے، باوجود اس کے کہ عالمی سطح پر اس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔
الازہر نے اسرائیل پر "انسانیت اور شرافت کے تمام اصولوں کو پامال کرنے” کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک بار پھر اپنی "خونریز فطرت اور تاریخی معاہدہ شکنی” کو بے نقاب کر دیا ہے تاکہ مزید "قتل عام اور جنگی جرائم” کا ارتکاب کیا جا سکے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ "جب تک عالمی طاقتیں اسرائیل کی حمایت جاری رکھیں گی، اس کے جرائم پر خاموش رہیں گی اور اسے نسل کشی اور نسلی تطہیر جیسے ناقابل بیان مظالم پر جوابدہی سے بچاتی رہیں گی، تب تک اسرائیل جارحیت روکنے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھائے گا۔”
الازہر نے اسرائیلی جارحیت کی حمایت کو "تمدنی اور اخلاقی زوال” اور اس کے جرائم میں شراکت داری قرار دیا۔ اسرائیلی حملوں کو "سیاہ دہشت گردی” سے تعبیر کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ صہیونی ریاست کے "مجرمانہ ریکارڈ” میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ ہے، جس کے دوران اس نے "معصوموں کے خون، عزت، زمین اور حقوق کو پامال کیا ہے۔”
الازہر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ "صہیونی قتل و غارت گری کو فوری طور پر روکے” اور اسرائیلی رہنماؤں کو "ان کے جرائم اور قتل عام” پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 48,500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ 1,12,000 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یواو گالانٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
اس کے علاوہ اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں بھی نسل کشی کے مقدمے کا سامنا ہے، جو غزہ کے خلاف اس کی جنگ کے تناظر میں دائر کیا گیا ہے۔

