رپورٹس کے مطابق، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے امریکہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ وہ مصر کے اس منصوبے کو مسترد کر دے جو عرب لیگ کی حمایت یافتہ ہے اور جس کا مقصد بعد از جنگ غزہ کی تعمیر نو اور سیاسی استحکام ہے۔ یہ پیش رفت ابوظبی اور قاہرہ کے تعلقات میں نمایاں دراڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔
مارچ کے آغاز میں مصر نے ایک منصوبہ پیش کیا تھا جس کا مقصد اسرائیل کے شدید حملے کے بعد غزہ کی پٹی کی سیاسی منتقلی، تعمیر نو اور بحالی کو ممکن بنانا تھا۔ اس منصوبے کے اہم نکات میں فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کی حکومت، اردن اور مصر کے تربیت یافتہ غزہ سیکیورٹی فورسز، اور اقوام متحدہ کے امن مشن کی ممکنہ تعیناتی شامل تھی، جو غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں امن قائم کر سکے۔
مصری منصوبہ درحقیقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کا متبادل تھا جس کے تحت غزہ کو امریکی کنٹرول میں لینے اور فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس پس منظر میں، عرب لیگ نے فوری طور پر قاہرہ کے منصوبے کی حمایت کر دی، جبکہ متعدد یورپی ممالک نے بھی اس کی تائید کی۔ تاہم، امریکہ اور اسرائیل نے اسے مسترد کر دیا۔
امریکہ کے اس مؤقف کو مزید تقویت متحدہ عرب امارات دے رہا ہے۔ خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی اور مصری حکام نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن میں تعینات اماراتی سفیر یوسف العتیبہ نے امریکی قانون سازوں اور صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ مصر کو مجبور کریں کہ وہ غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو قبول کرے۔
مزید برآں، یو اے ای کی سفارتی مہم کا مؤقف ہے کہ مصری منصوبہ غیر مؤثر ہے اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو ضرورت سے زیادہ آزادی فراہم کرتا ہے۔ اس بنیاد پر، اماراتی حکام نے امریکی حکومت پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ مصر کو دی جانے والی فوجی امداد کو اس شرط سے مشروط کرے کہ قاہرہ اپنا منصوبہ واپس لے اور ٹرمپ کے نام نہاد ‘ریویرا پلان’ کو تسلیم کرے۔
ایک نامعلوم امریکی اہلکار کے مطابق، "جب عرب لیگ نے اس منصوبے پر اتفاق کیا، تو یو اے ای واحد ملک نہیں بن سکتا تھا جو اس کی مخالفت کرے، لیکن اب وہ اسے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مل کر سبوتاژ کر رہا ہے۔”
واضح رہے کہ قاہرہ ہر سال امریکہ سے 1.3 بلین ڈالر کی فوجی امداد حاصل کرتا ہے، جس میں سے 300 ملین ڈالر انسانی حقوق کے معاملات سے مشروط ہوتے ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران ٹرمپ انتظامیہ یہ عندیہ دے چکی ہے کہ اس امداد کو بطور دباؤ استعمال کیا جائے گا تاکہ مصر اور اردن – جو کہ امریکی امداد حاصل کرنے والا ایک اور ملک ہے – کو غزہ سے بے دخل کیے جانے والے فلسطینیوں کو قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
رواں ماہ اس دباؤ کو عملی جامہ پہنایا گیا، اور گزشتہ ہفتے کی رپورٹوں کے مطابق، امریکہ نے مصر کو آگاہ کر دیا ہے کہ اگر اس نے فلسطینیوں کی بے دخلی سے متعلق اپنی پالیسی میں ضروری ترمیم نہ کی تو اس کی فوجی امداد معطل کر دی جائے گی۔

