جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیآئیے سب متحد ہوں: حماس کا دنیا بھر میں اسرائیلی اور امریکی...

آئیے سب متحد ہوں: حماس کا دنیا بھر میں اسرائیلی اور امریکی سفارتخانوں کے محاصرے کا مطالبہ
آ

غزہ میں قائم فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے امریکی حمایت یافتہ جنگِ نسل کشی کے دوبارہ آغاز کے ردعمل میں دنیا بھر میں اسرائیلی اور امریکی سفارتخانوں کے گھیراؤ اور بڑے پیمانے پر مظاہروں کی اپیل کی ہے۔منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں، حماس نے عرب اور اسلامی دنیا سمیت "دنیا بھر کے آزاد انسانوں” سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کے خلاف اسرائیلی جارحیت میں اضافے کی مذمت کے لیے یکجہتی کے مظاہرے کریں اور اسرائیل اور اس کے کلیدی اتحادی، امریکہ، پر دباؤ ڈالیں تاکہ جاری فوجی حملے کو فوری طور پر روکا جا سکے۔بیان میں کہا گیا، "فاشسٹ قابض حکومت نے رمضان کے مقدس مہینے میں ہمارے عوام کے خلاف اپنی وحشیانہ جارحیت اور نسل کشی کی جنگ دوبارہ شروع کر دی ہے، جو تمام انسانی اقدار، اصولوں اور الہامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔”حماس نے احتجاج اور مزاحمت کے متعدد طریقے تجویز کیے، جن میں دنیا بھر کے شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے اور اسرائیلی و امریکی سفارتخانوں کا گھیراؤ شامل ہے۔بیان کے مطابق، سفارتخانوں کے گھیراؤ کا مقصد تل ابیب اور واشنگٹن پر "تمام ممکنہ ذرائع سے دباؤ ڈالنا ہے تاکہ غزہ کی پٹی میں ہمارے فلسطینی عوام کے خلاف جارحیت اور جاری نسل کشی کی جنگ کو روکا جا سکے۔”حماس نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ فلسطینی پرچم بلند کریں اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق، آزادی، خودمختاری، اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے عائد کردہ سخت محاصرے کے خاتمے کے لیے وسائل کو متحرک کریں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے ایک طے شدہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پر فضائی حملوں میں تیزی لائی ہے۔ اس معاہدے کا مقصد اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنا تھا، جو ایک تاریخی مزاحمتی کارروائی کے ردعمل میں شروع ہوئی تھی

فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق، منگل کے روز اسرائیلی حملوں میں 424 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 174 بچے اور 89 خواتین شامل ہیں۔ اسرائیلی افواج کے گھروں، مساجد اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں 600 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ان بمباریوں نے پہلے سے جاری انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، کیونکہ طبی سامان ختم ہونے کے قریب ہے اور سرحدی راستے مسلسل 17ویں روز بھی بند ہیں۔عالمی سطح پر جنگ بندی کے مطالبات میں شدت آ رہی ہے، اور دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے بڑھ رہے ہیں۔تاہم، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو، جن کی حکومت کو اس جنگ کے آغاز سے ہی امریکہ کی طرف سے سالانہ 3 بلین ڈالر کی پہلے سے بھاری مالی و عسکری امداد کے کئی گنا زیادہ معاونت مل رہی ہے، نے مظالم روکنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی حملے حماس کے جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔حماس نے اپنے بیان کا اختتام عالمی یکجہتی کی اپیل کے ساتھ کیا، اور زور دیتے ہوئے کہا:
"آئیے عرب، اسلامی اور بین الاقوامی سطح پر تمام کوششوں کو متحد کریں اور صہیونی جارحیت اور نسل کشی کی جنگ کے خلاف ایک آواز بنیں، جو وہ غزہ میں 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں پر مسلط کر رہا ہے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین