فرانس کا جوہری ہتھیاروں سے لیس رافیل طیارے جرمن سرحد پر تعینات کرنے کا اعلان
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ جرمنی کی سرحد کے قریب واقع ایک مرکزی فضائی اڈے کو جدید بنایا جائے گا تاکہ وہاں جوہری کروز میزائلوں سے لیس رافیل لڑاکا طیارے تعینات کیے جا سکیں۔لُکسیوئی-سینٹ-ساؤویور (Luxeuil-Saint-Sauveur) بیس مشرقی فرانس میں واقع ہے اور 2011 تک جوہری ہتھیاروں کا میزبان رہا، لیکن بعد میں وہاں موجود طیاروں کو دوسرے مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔صدر میکرون نے کہا:
"لُکسیوئی فضائی اڈے کو ایک غیرمعمولی اپ گریڈ دیا جائے گا اور یہ فرانس کی جوہری دفاعی حکمت عملی میں اپنا مکمل کردار دوبارہ حاصل کرے گا۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ:
- 2035 تک یہ بیس جدید ترین رافیل طیاروں اور ان کے ہائپرسونک جوہری میزائلوں کی میزبانی کرے گا۔
- بیس پر عملے کی تعداد دوگنا کر کے 2,000 کر دی جائے گی تاکہ دو اسکواڈرن کے لیے سہولت فراہم کی جا سکے۔
- حکومت اس منصوبے پر 1.5 ارب یورو (1.64 ارب ڈالر) خرچ کرے گی تاکہ بیس کو جدید بنایا جا سکے اور رافیل طیاروں کے آرڈرز میں تیزی لائی جا سکے۔
یہ فیصلہ یورپ میں سیکیورٹی کے بدلتے ہوئے حالات اور نیٹو اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔
فرانس کا جوہری حکمت عملی پر زور، جرمنی کے ممکنہ تحفظ پر غور
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ دنیا ایک خطرناک اور غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو چکی ہے، خاص طور پر 2022 میں کیف میں کھلی دشمنی کے آغاز کے بعد۔ تاہم، انہوں نے براہ راست کسی ملک کا نام نہیں لیا۔یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جرمنی کے چانسلر نامزد، فریڈرک مرز نے تجویز دی تھی کہ فرانس اپنے جوہری ہتھیاروں کو جرمنی اور دیگر یورپی یونین ممالک کے دفاع کے لیے فراہم کر سکتا ہے۔ اس پر میکرون نے جواب دیا کہ یہ معاملہ زیرِ بحث لایا جائے گا۔دوسری جانب، روس نے یورپی یونین کے فوجی منصوبوں کو "غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز” قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے اس مہینے کے اوائل میں کہا کہ:”برسلز اور دیگر یورپی دارالحکومتوں میں جو محاذ آرائی کی حکمت عملی اور منصوبے بن رہے ہیں، وہ یوکرین تنازع کے پرامن حل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔”

