جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانملک بھر میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف بڑی کارروائی، متعدد عمارتیں سیل،...

ملک بھر میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف بڑی کارروائی، متعدد عمارتیں سیل، درجنوں گاڑیاں ضبط اور بینک اکاؤنٹس منجمد
م

قومی احتساب بیورو (نیب) نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے کراچی، لاہور، تخت پڑی، نیو مری گولف سٹی اور اسلام آباد میں کثیر المنزلہ رہائشی اور کمرشل جائیدادوں کو سر بمہر کر دیا۔ذرائع کے مطابق، یہ اقدام قانونی تحقیقات کے تحت اٹھایا گیا ہے، جبکہ مزید اثاثے بھی ضبط کیے جانے کا امکان ہے۔

نیب کی بڑی کارروائی: بحریہ ٹاؤن کی جائیدادیں سیل، اکاؤنٹس منجمد، گاڑیاں ضبط

قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف جاری فراڈ کے مقدمات میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ نیب نے بحریہ ٹاؤن کراچی، لاہور، تخت پڑی، نیو مری/گالف سٹی اور اسلام آباد میں کثیر المنزلہ رہائشی و کمرشل عمارتوں کو سیل کر دیا ہے، جبکہ سیکڑوں بینک اکاؤنٹس منجمد اور درجنوں گاڑیاں بھی ضبط کر لی گئی ہیں۔

ملک ریاض کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز

نیب حکام کا کہنا ہے کہ کچھ مخصوص عناصر ملک ریاض کے دبئی پروجیکٹ میں رقوم منتقل کر رہے ہیں، جس کے پیش نظر انہیں بیرون ملک سے واپس لانے کے لیے بھرپور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔نیب کے اعلامیہ کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض احمد اور دیگر کے خلاف دھوکہ دہی کے متعدد مقدمات زیر تفتیش ہیں۔ نیب نے اسلام آباد اور کراچی کی احتساب عدالتوں میں ان کے خلاف ریفرنسز دائر کیے ہیں، جہاں عدالتوں نے تمام ملزمان کو طلب کر رکھا ہے۔

زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور اربوں کے فراڈ کے الزامات

نیب کے مطابق، ان مقدمات میں ملک ریاض احمد اور ان کے ساتھیوں پر کراچی، تخت پڑی راولپنڈی اور نیو مری میں بحریہ ٹاؤن کے نام پر نہ صرف سرکاری بلکہ نجی زمینوں پر غیر قانونی قبضے، بغیر اجازت ہاؤسنگ سوسائٹیاں قائم کرنے اور عوام سے اربوں روپے کے فراڈ کے الزامات ہیں، جن کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔

منی لانڈرنگ کے ثبوت اور دبئی میں سرمایہ کاری

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ این سی اے کیس میں عدالتی مفرور ملک ریاض احمد، جو اس وقت دبئی میں مقیم ہیں، وہاں لگژری اپارٹمنٹس کا نیا منصوبہ شروع کر چکے ہیں۔ نیب کے پاس شواہد موجود ہیں کہ کچھ افراد اس منصوبے میں سرمایہ کاری کے لیے پاکستان سے غیر قانونی طور پر رقوم منتقل کر رہے ہیں، جو کہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے۔نیب نے واضح کیا ہے کہ پاکستان سے دبئی منتقل ہونے والے کسی بھی فنڈ کو منی لانڈرنگ تصور کیا جائے گا اور ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

عوام کے لیے وارننگ

نیب نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن کی جانب سے کسی بھی پرکشش لالچ میں نہ آئیں اور اپنی محنت سے کمائی گئی رقم کی حفاظت کریں۔

ملزمان کی وطن واپسی کے لیے اقدامات

نیب نے دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر مفرور ملزمان کو پاکستان واپس لانے کے لیے بھرپور کوششیں شروع کر دی ہیں تاکہ انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ نیب بغیر کسی دباؤ یا تاخیر کے اپنی قانونی کارروائیاں جاری رکھے گا تاکہ پاکستانی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین