جمعہ, فروری 13, 2026
ہومپاکستانافغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے، اسے دشمن بنانے کی کوشش مت کریں...

افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے، اسے دشمن بنانے کی کوشش مت کریں – عمران خان
ا

سابق وزیرِاعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے، اسے دشمن بنانے کی کوشش نہ کریں۔ آخر ہم بلاوجہ اپنے مسلمان بھائیوں سے لڑائی کیوں مول لے رہے ہیں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران، عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں کہا کہ انہیں اخبار نہیں دیا جا رہا اور ٹی وی بھی بند ہے، جس کی وجہ سے وہ حالیہ واقعات سے بے خبر تھے۔علیمہ خان کے مطابق، جب انہوں نے عمران خان کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بارے میں بتایا تو عمران خان نے کہا کہ اسی لیے ان کا اخبار اور ٹی وی بند کیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے مطابق، پی ٹی آئی ان کی اجازت کے بغیر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت نہیں کر سکتی، یعنی قومی سلامتی کمیٹی میں جانے کا فیصلہ بھی انہی کی منظوری سے ہوگابانی پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر گراف دیکھا جائے تو 2021 تک دہشت گردی کم ہو چکی تھی، لیکن 2022 میں دوبارہ بڑھنا شروع ہوئی۔ انہوں نے زور دیا کہ افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے، اسے دشمن بنانے کی کوشش نہ کریں۔ "آپ بلاوجہ اپنے مسلمان بھائیوں سے لڑائی کیوں مول لے رہے ہیں؟”علیمہ خان نے مزید بتایا کہ مینوئل کے مطابق، بشریٰ بی بی اور عمران خان کو آدھا گھنٹہ پہلے اپنی فیملیز سے اور پھر آپس میں ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔علیمہ خان نے مزید کہا کہ ملاقات کا دورانیہ مجموعی طور پر ڈیڑھ گھنٹے ہونا چاہیے، لیکن صرف 30 منٹ کی ملاقات کرائی جاتی ہے۔ تاہم، احتجاجاً آج ہم نے 45 منٹ تک ملاقات کی۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی اپنے بچوں سے فون پر بات نہیں کروائی گئی اور نہ ہی ان کے ذاتی معالج سے طبی معائنہ کرایا گیا، حالانکہ عدالت نے اجازت دی ہوئی ہے کہ ڈاکٹر ثمینہ نیازی ان کے دانتوں کا طبی معائنہ کریں۔علیمہ خان نے الزام لگایا کہ حکومت ہر ممکن طریقے سے انہیں تنگ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے جب نواز شریف کو جیل میں ڈالا تھا تو کلثوم نواز کو گرفتار نہیں کیا تھا، لیکن عمران خان کے ساتھ ان کی اہلیہ کو بھی جیل میں رکھا گیا تاکہ ان پر دباؤ ڈالا جا سکے۔علیمہ خان کے مطابق، عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ وہ ملک میں آزادی، اتحاد، قانون کی حکمرانی اور ظلم کے خلاف کھڑے ہیں۔ اگر انہیں ان اصولوں پر قائم رہنے کی وجہ سے قید میں رکھا جا رہا ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ان ہتھکنڈوں سے وہ جھک جائیں گے، تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔

بانی پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت جو چاہے کر لے، وہ اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے خلاف مقدمات کو التوا میں رکھا جا رہا ہے، ملاقاتوں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اور اس وقت پاکستان میں کوئی قانون صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہا۔عمران خان نے مزید کہا کہ اس وقت کس کی مرضی چل رہی ہے، یہ آپ بھی جانتے ہیں اور ہم بھی، سب کو معلوم ہے کہ پاکستان بدل چکا ہے۔ ہم مضبوطی سے کھڑے ہیں اور ہمیں کبھی بھی اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستانیوں کو اپنے ملک اور اس کی سالمیت کے لیے دعا کرنی چاہیے۔

’دہشتگردی کو ایک آواز سے دبانے کی ضرورت ہے‘

دوسری جانب، چیئرمین پی ٹی آئی نے عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج بانی پی ٹی آئی سے وکلا کی ملاقات ہوئی، جس میں انہوں نے جعفر ایکسپریس سانحہ کی مذمت کی۔چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق، عمران خان نے ملک میں دہشتگردی کی نئی لہر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف سب کو ایک آواز ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے حوالے سے پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے فیصلے کی تائید کی اور کہا کہ پی ٹی آئی چاروں صوبوں کی نمائندہ جماعت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت واقعی دہشتگردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ عمران خان کو باہر آنے دیا جائے اور انہیں سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین