جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ میں اسرائیلی نسل کشی کے دوبارہ آغاز پر عالمی سطح پر...

غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کے دوبارہ آغاز پر عالمی سطح پر شدید مذمت
غ

جیسے ہی "اسرائیل” نے غزہ پر اپنی وحشیانہ فضائی بمباری میں شدت پیدا کی، عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں نے فوری طور پر کارروائی کا مطالبہ کیا تاکہ فلسطینی عوام کو مزید قتلِ عام اور تباہی سے بچایا جا سکے۔

دو ماہ تک جاری رہنے والی نازک جنگ بندی کے خاتمے کے بعد، "اسرائیل” نے وسیع پیمانے پر فضائی حملے شروع کر دیے، جن کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 326 فلسطینی شہید ہو گئے۔ غزہ کی وزارتِ صحت نے ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے اس جارحیت کو انسانی تباہی قرار دیا۔

عالمی برادری کا سخت ردعمل

چین

چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا،
"چین موجودہ کشیدہ حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات کریں جو مزید انسانی بحران سے بچاؤ کو یقینی بنائیں۔”

روس

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے غزہ میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور شہری ہلاکتوں پر شدید تشویش ظاہر کی اور کہا،
"موجودہ حالات تیزی سے ایک نئے بحران میں تبدیل ہو رہے ہیں، اور شہری آبادی پر حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔”

ایران

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بگھائی نے اسرائیلی جارحیت کو "نسل کشی” اور "منظم نسلی تطہیر” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ،
"یہ حملے امریکہ کی مکمل حمایت کے بغیر ممکن نہیں، اور عالمی برادری کی خاموشی ان جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔”

فرانس

فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا،
"اس جارحیت کے تسلسل سے نہ صرف فلسطینی عوام کی جانیں خطرے میں پڑی ہیں بلکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے امکانات بھی معدوم ہو رہے ہیں۔”

آئرلینڈ

آئرلینڈ کے وزیرِاعظم مائیکل مارٹن نے کہا،
"غزہ کے معصوم شہری پہلے ہی ناقابلِ بیان مصائب کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے فوری طور پر تمام دشمنانہ کارروائیاں بند کی جائیں۔”

کولمبیا

کولمبیا نے "اسرائیل” کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور نہتے فلسطینیوں کے قتلِ عام کی سخت مذمت کی، اور عالمی فورمز پر جنگی جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی حمایت کا اعلان کیا۔

آسٹریلیا

آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے جنگ بندی کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا،
"یہ پہلے ہی ایک انسانی بحران بن چکا ہے، اور ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کے معاہدے پر عمل کریں۔”

ترکیہ

ترکیہ نے "اسرائیل” کی جارحیت کو نسل کشی کی ایک نئی سطح قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے کہا کہ وہ "نیٹین یاہو حکومت کے خلاف فیصلہ کن اقدام اٹھائے، جو انسانیت کے خلاف کھلی جنگ چھیڑ چکی ہے۔”

مصر

مصری وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی حملوں کو "جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی” قرار دیا اور خبردار کیا کہ
"یہ خطرناک پیش رفت خطے کے استحکام کے لیے تباہ کن نتائج مرتب کر سکتی ہے۔”

اقوامِ متحدہ کا مؤقف

سیکریٹری جنرل

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیلی بمباری پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ
"جنگ بندی کا احترام کیا جائے، فلسطینی عوام تک انسانی امداد کی فوری اور بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، اور تمام یرغمالیوں کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔”

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ ولکر ترک نے کہا،
"میں غزہ میں گزشتہ رات کے فضائی حملوں اور بمباری پر شدید صدمے میں ہوں۔ سینکڑوں شہری مارے جا چکے ہیں، اور یہ انسانی المیہ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔”

فلسطینی علاقوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے انسانی امدادی رابطہ کار

محند ہادی نے فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا،
"یہ ناقابلِ قبول ہے۔ صرف جنگ بندی، انسانی امداد کی مسلسل فراہمی، یرغمالیوں کی رہائی اور بنیادی سہولتوں کی بحالی ہی اس بحران کا واحد حل ہیں۔”

‘اسرائیل’ نے غزہ پر ایک بار پھر جنگ مسلط کر دی

المایدن کے نامہ نگار کے مطابق، "اسرائیل” نے غزہ کے مختلف علاقوں پر وحشیانہ فضائی حملے کیے، جن میں مشرقی غزہ پر انتہائی شدید بمباری شامل تھی۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے رفح، النصیرات مہاجر کیمپ کے شمال مشرقی علاقوں، اور خان یونس کے مشرقی قصبے الفُخاری کو نشانہ بنایا، جبکہ توپ خانے نے مسلسل گولہ باری کی۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق، غزہ کی وزارتِ داخلہ کے نائب وزیر، میجر جنرل محمود ابو وطفہ، اسرائیلی بمباری میں شہید ہو گئے۔

اسرائیلی قابض افواج نے کئی علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری کرتے ہوئے عام شہریوں کو مزید خوف و دہشت میں مبتلا کر دیا۔

غزہ کے میڈیا آفس نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ،
"اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی جاری ہے، اور قابض قوتیں انسانی و بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی نسل کشی میں ملوث ہیں۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین