یمنی انصار اللہ کے رہنما، سید عبدالملک الحوثی نے عرب اور اسلامی ممالک کی بے عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں غزہ کی صورتحال کے حوالے سے بھاری ذمہ داری کا سامنا ہے۔
منگل کی شام اپنے خطاب میں عبدالملک الحوثی نے کہا کہ "جہاد کا حکم صرف ظلم، جرائم اور اسرائیلی قبضے کی ناانصافیوں کے خلاف دیا گیا ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "یمنی مسلح افواج قابض قوتوں کے خلاف اپنی کارروائیاں اعلیٰ ترین سطح پر دوبارہ شروع کریں گی۔” فلسطینی عوام سے مخاطب ہو کر انہوں نے کہا: "آپ اکیلے نہیں ہیں۔”
فلسطین کی آزادی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد
سید الحوثی نے واضح کیا کہ "اسرائیلی دشمن کا مقابلہ اور مزاحمت کرنے کی ذمہ داری سے فرار کا کوئی متبادل نہیں ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ "اگر اسرائیل فلسطینی کاز کو ختم کرنے میں کامیاب ہوگیا تو وہ بے لگام ہو کر دیگر ممالک میں بھی جرائم کرے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیلی قبضے نے غزہ میں فلسطینی عوام کی نسل کشی کے ذریعے اپنی جارحیت دوبارہ شروع کردی ہے۔” انہوں نے اسرائیل پر "جنگ بندی معاہدے سے انحراف، محاصرہ ختم کرنے اور فاقہ کشی روکنے کے وعدوں کی خلاف ورزی” کا الزام لگایا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ "دو ہفتے قبل ہی اسرائیل نے اپنی دی گئی یقین دہانیوں کو توڑتے ہوئے غزہ میں انسانی امداد کی رسائی کو روک دیا تھا۔”
امریکی حمایت اور جنگی جرائم
سید الحوثی نے کہا کہ "جنگ کا دوبارہ آغاز امریکی مشاورت سے کیا گیا ہے،” اور مزید کہا کہ "گزشتہ روز اسرائیل نے سینکڑوں فلسطینیوں کا قتل عام کیا، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل تھیں۔”
‘کوئی حد، کوئی سرخ لکیر نہیں’
انہوں نے زور دے کر کہا کہ "اب کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہی، کیونکہ قابض قوتیں نسل کشی، مکمل تباہی اور خوفناک قتل عام میں کسی بھی حد کی پرواہ نہیں کر رہی ہیں۔”
حماس پر دباؤ اور مذاکرات
سید الحوثی نے جاری مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ "حماس پر دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا کہ وہ معاہدے کے دوسرے مرحلے میں پیش رفت روکنے کے لیے کوئی رعایت دے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر بے شرمی سے حماس پر دباؤ ڈال رہا ہے اور اپنی جارحیت ختم کرنے اور غزہ سے انخلا کے وعدوں سے راہ فرار اختیار کر رہا ہے۔”
عرب اور اسلامی ممالک کی بے عملی
یمنی رہنما نے عرب اور اسلامی ممالک کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ سب کچھ امت مسلمہ کے سامنے ہو رہا ہے، اور اس پر خاموشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔”
انہوں نے سوال کیا کہ "جب مغرب دشمن کی حمایت کر رہا ہے تو عرب اور اسلامی ممالک فلسطینی مجاہدین کو اسلحہ فراہم کیوں نہیں کر رہے؟”
یمنی جوابی کارروائی
منگل کی شام انصار اللہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی طرف ایک بیلسٹک میزائل داغا، جس کے بعد قابض علاقوں میں راکٹ سائرن بج اٹھے۔
یمنی مسلح افواج نے تصدیق کی کہ انہوں نے مقبوضہ النقب میں اسرائیلی نیواتیم ایئر بیس کو "فلسطین 2” ہائپرسونک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا اور حملہ کامیاب رہا۔
بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے خبردار کیا کہ "اگر اسرائیل نے غزہ پر حملے بند نہ کیے تو یمن آنے والے دنوں میں اسرائیلی اہداف کو مزید وسعت دے گا۔”

