جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیمصر نے غزہ اور مغربی کنارے میں بین الاقوامی موجودگی کے لیے...

مصر نے غزہ اور مغربی کنارے میں بین الاقوامی موجودگی کے لیے سلامتی کونسل کی تجویز پیش کر دی
م

مصر نے آج اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے ایک تجویز پیش کی ہے جس میں مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی موجودگی کے قیام پر غور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت قاہرہ میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران سامنے آئی، جس میں مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی، غیر ملکی سفیروں اور بین الاقوامی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں غزہ کے شعبۂ صحت کی بحالی کے معاملات پر گفتگو کی گئی۔

مصری وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، عبدالعاطی نے کہا: "یہ تجویز دی گئی ہے کہ سلامتی کونسل غزہ اور مغربی کنارے میں بین الاقوامی موجودگی کے قیام پر غور کرے۔”

انہوں نے مزید کہا: "یہ عمل سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے کیا جائے گا، جس کے تحت واضح مینڈیٹ اور اختیارات کے ساتھ امن قائم رکھنے یا بین الاقوامی تحفظ فراہم کرنے والی فورسز تعینات کی جائیں گی، اور ایک طے شدہ نظام الاوقات کے تحت ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔”

عبدالعاطی نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس تجویز پر عمل درآمد کس مرحلے میں ہے۔

چار مارچ کو مصر میں منعقد ہونے والے ایک ہنگامی عرب سربراہی اجلاس میں بھی غزہ اور مغربی کنارے میں امن فوج کی تعیناتی پر زور دیا گیا تھا، جو فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے جاری سیاسی کوششوں کا حصہ ہے۔

مصری وزارتِ خارجہ کے مطابق، فلسطینی باشندوں کو بے دخل کیے بغیر غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ایک عرب منصوبے کو خطے اور عالمی سطح پر خاصی حمایت حاصل ہوئی ہے۔

عبدالعاطی نے اس منصوبے کی کامیابی کے لیے چند اہم نکات واضح کیے، جن میں شامل ہیں:

  • غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا
  • ابتدائی بحالی اور تعمیرِ نو کے اقدامات کو اس طرح منظم کرنا کہ فلسطینیوں کی شمولیت اور قیادت کو یقینی بنایا جا سکے
  • غزہ کو فلسطینی سرزمین کا ایک ناقابلِ تقسیم حصہ تسلیم کرنا

انہوں نے مزید زور دیا کہ فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں واپس آنے اور اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل بنایا جانا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ، عبدالعاطی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مصر اور اردن نے فلسطینی پولیس افسران کی تربیت کا آغاز کر دیا ہے، تاکہ انہیں غزہ میں تعینات کیا جا سکے۔

اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 48,500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ 112,000 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس تباہ کن حملے نے غزہ کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا۔

یہ حملہ 19 جنوری کو ایک جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت عارضی طور پر روکا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ "امریکہ غزہ پٹی پر قبضہ کر کے اسے مشرق وسطیٰ کا ’ریویرا‘ بنائے گا، اور فلسطینیوں کو نکال دیا جائے گا تاکہ وہ واپس نہ آ سکیں۔” تاہم، عالمی دباؤ کے بعد اور اس منصوبے پر جنگی جرائم کے الزامات لگنے کے بعد، ٹرمپ نے اپنے بیان میں جزوی ترمیم کرتے ہوئے کہا: "کسی کو بے دخل نہیں کیا جا رہا۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین