جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامی"اسرائیل کے غزہ پر شدید بمباری کے نتیجے میں 200 سے زائد...

"اسرائیل کے غزہ پر شدید بمباری کے نتیجے میں 200 سے زائد فلسطینی شہید”
&

اسرائیلی بمباری میں شدت آنے کے بعد 200 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے۔ یہ حملے تقریباً دو ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع کیے گئے۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کے شمالی، وسطی اور جنوبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ رپورٹس کے مطابق، رہائشی مکانات اور بے گھر فلسطینیوں کے عارضی پناہ گاہوں کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ قدس نیوز نیٹ ورک کے مطابق، اسرائیلی فوج نے اس حملے کو سیاسی قیادت کے طے شدہ "اہداف” کے حصول کا حصہ قرار دیا ہے۔

صحت کے حکام کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک 205 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر ہلاکتیں خان یونس میں ہوئیں، جہاں پناہ گزین خاندانوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ زخمیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، اور غزہ کے ہسپتال پہلے ہی طبی سامان کی قلت کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

اسرائیلی قابض افواج کے ٹینکوں اور توپ خانے نے جنوبی اور مشرقی رفح اور خان یونس کے قریبی علاقوں پر بھی حملے کیے۔ مقامی باشندوں نے زوردار دھماکوں اور وسیع پیمانے پر تباہی کی اطلاع دی ہے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ان حملوں کے احکامات دیے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ یہ حملے حماس کی جانب سے اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے سے مسلسل انکار کے بعد ضروری ہو گئے تھے۔

اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے، جس میں قیدیوں کی رہائی کے بدلے غزہ میں نسل کشی کی مہم روکنے کی شرط شامل تھی۔ اس کے بجائے، تل ابیب حماس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ اسرائیلی قیدیوں کو بغیر کسی معاہدے کے رہا کرے۔

وزیرِاعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا:
"یہ حملے حماس کی جانب سے ہمارے یرغمالیوں کی رہائی سے مسلسل انکار اور امریکی صدارتی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور دیگر ثالثوں کی تمام تجاویز کو رد کرنے کے بعد کیے گئے ہیں۔”

بیان میں مزید کہا گیا:
"اسرائیل اب حماس کے خلاف مزید شدت سے فوجی کارروائی کرے گا۔ آپریشنل منصوبہ گزشتہ ویک اینڈ پر اسرائیلی فوج نے پیش کیا تھا، جسے سیاسی قیادت نے منظور کر لیا۔”

اسرائیلی ذرائع کے مطابق، امریکہ کو ان حملوں سے پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا، اور بعد میں وائٹ ہاؤس نے بھی اس کی تصدیق کی۔

یہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی ایک اور خلاف ورزی ہے۔ اس سے قبل تل ابیب نے فلسطینیوں کو ڈرون اور کواد کاپٹر حملوں کا نشانہ بنایا تھا اور امدادی کارکنوں اور صحافیوں پر بمباری کی تھی۔ قابض ریاست نے جنگ بندی معاہدے کی ایک اور شرط کو بھی نظر انداز کر دیا ہے، جس کے تحت غزہ میں پناہ گاہوں، خیموں اور دیگر امدادی سامان کی فراہمی یقینی بنائی جانی تھی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین