جمعہ, فروری 13, 2026
ہومبین الاقوامیقطر کا عالمی برادری سے غزہ میں اسرائیلی بھوک پالیسی کے خلاف...

قطر کا عالمی برادری سے غزہ میں اسرائیلی بھوک پالیسی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
ق

قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے آج عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی بھوک پالیسی کا مضبوطی سے مقابلہ کرے۔

یہ مطالبہ انہوں نے دوحہ میں اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل اور غزہ کے لیے سینئر انسانی امداد و تعمیر نو کی رابطہ کار سگرڈ کاگ سے ملاقات کے دوران کیا، جو اس وقت قطر کے دورے پر ہیں۔

قطری وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، اس ملاقات میں قطر اور اقوام متحدہ کے درمیان تعلقات اور انہیں مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں فریقین نے غزہ کی تازہ ترین صورتحال، انسانی امداد کی فراہمی میں درپیش چیلنجز، اور تمام علاقوں میں بلا رکاوٹ اور مستقل بنیادوں پر امداد پہنچانے کے لیے تعاون کے طریقوں پر بھی غور کیا۔

شیخ محمد نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ میں تباہ کن انسانی صورتحال کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اسرائیلی قبضے کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف جنگ میں اپنائی گئی بھوک پالیسی کے خلاف سخت موقف اختیار کرے۔

اس ماہ کے آغاز میں، اسرائیل نے غزہ میں تمام سرحدی راستے بند کر دیے، خوراک، ادویات اور ایندھن کی ترسیل پر پابندی لگا دی، تاکہ حماس کو تل ابیب کی جنگ بندی کی نئی شرائط قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

اسرائیل نے غزہ کو بجلی کی فراہمی بھی مکمل طور پر منقطع کر دی، جس سے وہاں کا واحد ڈیسیلینیشن پلانٹ بند ہو گیا اور فلسطینیوں کے لیے صاف پانی کا حصول ناممکن ہو گیا۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق، فرانسسکا البانیزے، نے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے نسل کشی کی وارننگ قرار دیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر لکھا:
"نسل کشی کا خطرہ! اسرائیل کی جانب سے غزہ کو بجلی کی فراہمی منقطع کرنے کا مطلب ہے کہ ڈیسیلینیشن اسٹیشن کام نہیں کریں گے، اور اس کا نتیجہ صاف پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں نکلے گا۔”

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے بھی خبردار کیا ہے کہ غزہ میں امداد کی معطلی، بشمول بجلی کی کٹوتی، خطے کو شدید انسانی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین